اہم خبرِیں
پنجاب میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم افغانستان، جیل پر حملہ، تین افراد ہلاک، متعدد قیدی فرار بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال آدم علیہ السلام کے بعد کعبہ شریف میں عبادت کرنے والی واحد خاتو... امریکی خلا باز زمین پرواپس پہنچ گئے کورونا کیسزگھٹ کر25 ہزار172 رہ گئے عشرئہ ذو الحجہ اورعیدا لاضحی کے فضائل واحکام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، شاہ محمود قریشی ملک میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی افغانستان، صوبہ لوگر میں خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک حجاجِ کرام آج رمی جمار اور قربانی میں مصروف مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پرخلائی گاڑی "پرسویرینس" روانہ افغان حکومت کے بعد طالبان کا بھی تمام قیدی رہا کرنے کا اعلان پی ایس ایل بورڈ اور فرنچائزز کے تعلقات کشیدہ بیٹی نے قبر کشائی کر کے والد کی میت نکال لی راجن پور، سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک درگاہ عالیہ گولڑہ شریف پیرشاہ عبدالحق گیلانی انتقال کرگئے پی ٹی اے نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی عیدالاضحٰی کی تعطیلات کے دوران موسم کی صورتحال

سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین لندن میں علاج پر توجہ دے رہے ہیں اور انہوں نے سیاسی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دوری اختیار کر رکھی ہے۔

جہانگیر خان ترین شوگر کمیشن رپورٹ جاری ہونے کے فوراً بعد پاکستان سے اپنے چارٹر طیارے میں برطانیہ گئے تھے اور وہ گزشتہ 5 ہفتوں سے اپنے ہمپشائر کنٹری ہوم میں مقیم ہیں۔

لندن میں جہانگیر ترین کی سرگرمیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما نے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں کیں۔

جہانگیر ترین نے لندن سے 60 میل دور اپنے کنٹری ہوم سے لندن کے 4 دورے سینٹرل لندن میں ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے کیے لیکن انہوں نے خبروں میں آنے سے بچنے کے لیے سیاست دانوں سے ملاقات سے گریز کیا۔

خیال رہے کہ حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی ہے جس کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار کی چینی ملز نے پیسہ بنایا۔

فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.