# راﺅ _انوار

ایس ایس پی ملیر کراچی راﺅ انوار کو عہدہ سے ہٹانے کے بعد ٹویٹر پر ان سے مختلف سوالات کئے جارہے ہیں۔
محسن داور لکھتے ہیں : راﺅ سے صرف ایک ہی سوال ہے کہ اگر نقیب محسود دہشتگرد تھا تو پھر پاک فوج نے اسے وطن کارڈ کیوں جاری کیا۔ یہ کارڈ صرف اسی شخص کو دیا جاتا ہے جسکا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
عامر خان کا ٹویٹ تھا : راﺅ انوار کو گڈاپ پولیس اسٹیشن کا بڑا شوق ہے۔ میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ گلشن تھانے میں ایس ایچ او تھے۔ یہ علاقہ میرے ماتحت تھا۔ انہوں نے زرداری سے کہہ کر وہاں پوسٹنگ کروائی تھی۔ اسے اس قسم کے غیر قانونی پولیس مقابلے پر قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔
احتشام الحق نے ٹویٹ کیا :میں نقیب اللہ کو انصاف ملنے تک خاموش نہیں رہونگا۔ راﺅ انوار نے پولیس مقابلے کے نام پر بے گناہ پختونوں کو گاجر مولی کی طرح قتل کیا۔وہ دوسرا الطاف حسین ہے۔
ایک بے نام ٹویٹ تھا : پشتونوں کی نسل کشی بند کرو، میں تو نقیب کے 3بچوں کا سوچ سوچ کر ہلکان ہورہا ہوں۔
سید علی رضا عابدی ٹویٹ کرتے ہیں : راﺅ انوار جب ایم کیو ایم والوں کو قتل کرتے تھے تو پی ٹی آئی کے ہیرو ہوا کرتے تھے، اب کیا ہوا۔
نظام الدین خان نے تحریر کیا : اب معاملہ پاک فوج اور راﺅ انوار کے درمیان ہے کیونکہ فوج طالبان کمانڈروں کو وطن کارڈ فراہم نہیں کرتی۔ اسکی تصدیق کا معیار نادرا سے زیادہ سخت ہے۔ اس کارڈ کے بغیر بے گھر لوگوں کو جنوبی وزیرستان میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔
جبرون ناصر ٹویٹ کرتے ہیں : ایسا پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ خودکش بمبار جل گیا لیکن زمین پر دھماکہ خیز مواد کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا۔
ڈاکٹر عالیہ کریم لکھتی ہیں : راﺅ انوار کو گرفتار کیا جائے۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.