#شاعر_ مرزا غالب

اردو کے ممتاز اور ہر دلعزیز شاعر مرزا غالب کے 220ویں یوم پیدائش پر بدھ کو پاکستان ٹرینڈ میں شاعر غالب رہا۔ مرزا غالب 15فروری 1869ءکو جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے ٹویٹ کئے۔ چوہدری نبیل نے ٹویٹ کیا: یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ مرزا غالب جیسے لِجینڈری کو آج تک کوئی نہیں بھلا سکا۔ بیشتر لوگوں نے انکے اشعار تحریر کرکے یاد تازہ کی۔
مرزا غالب کا ایک شعرے جے بی خان نے ٹویٹ کیا:
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
ایک اور شعر تحریرتھا:
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
عدنان نے شعر تحریر کیا :
درد ہو دل میں تو دوا کیجئے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے
احمد نے ٹویٹ کیا کہ:
87 ہزار739افراد نے آج صبح سے مرزاغالب کو سرچ کیا اور انجوائے کیا۔
قاسم عباس نے غالب کے اس شعر کو ٹویٹ کیا:
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.