Daily Taqat

فلم ‘ٹِک ٹاک’ ریویو: ’کہانی کو سمجھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے‘

23 مارچ کو ریلیز ہونے والی پاکستانی اینیمیٹڈ فلم ”ٹِک ٹاک“ کی سب سے بڑی”کامیابی“ یہ ہے کہ جو اس فلم کو مکمل دیکھ کر اٹھتا ہے وہ فلم ختم ہوتے ہی”ٹِک ٹاک “ کی ڈیمانڈ کرتا ہے تاکہ وہ دو یا تین گھنٹے ریوائنڈ جا کر اپنا ماضی سدھارتے ہوئے ٹکٹ کے پیسے بچالے اور کچھ بھی کرلے لیکن یہ فلم دیکھنے کی غلطی نہ کرے۔

کچھ سمجھ میں آیا! نہیں نا؟ یہی حال آپ کا فلم دیکھنے کے بعد بھی ہوگا۔ فلم کی کہانی کیا ہے؟ غالباً یہ سمجھنے کے لیے بھی”ٹائم مشین“ استعمال کرکے سالوں پہلے سے آئن اسٹائن یا نیوٹن کو بلانا ہوگا یا فلم اگر ایک مہینے پہلے ریلیز ہوجاتی تو ”اسٹیفن ہاکنگ“ پر دنیا کے مزید اسرار و رموز کھل جاتے۔

خیر ابھی بھی اس فلم کی مدد سے ”سی ایس ایس“ کرنے والوں کا امتحان لیا جاسکتا ہے اور جس کے 100 میں سے 33 نمبر بھی آجائیں وہ پاس ۔

فلم کی کہانی کو سمجھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے، ہفتے کی دوپہر کراچی کے بڑے سینما میں ہمارے علاوہ پانچ یا غالباً 6 لوگ اور تھے لیکن وہ بچے اور بڑے اچھے خاصے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود سر کھجاتے رہے۔ ہماری ناقص رائے میں اس فلم کے اسکرپٹ کے ساتھ اِس وقت ہالی وڈ کے اسپیلبرگ یا جیمز کیمرون بھی شاید انصاف کرنے میں ناکام ہوجائیں۔

فلم کی کہانی میں پاکستان، تقسیم سے پہلے کا برٹش انڈیا اور 19ویں صدی کا برطانیہ دکھایا گیا ہے۔کہانی میں چونکہ ”سسپنس“ اور ”ٹوئسٹ“ بھی ہیں، لہذا آئیں انھیں چھوڑ کر فلم کی ”کہانی“ سمجھانے کی ”کوشش“ کرتے ہیں لیکن اس کوشش میں ”غلطیوں“ کی گنجائش کافی حد تک موجود ہے۔

یہ سمجھنے کیلئے بھی” ٹائم مشین“ استعمال کر کے سالوں پہلے سے آئن اسٹائن یا نیوٹن کو بلانا ہوگا یا فلم اگر ایک مہینے پہلے ریلیز ہوجاتی تو ”اسٹیفن ہاکنگ“ پر دنیا کے مزید اسرار و رموز کھل جاتے۔

کہانی 2017کراچی سے شروع ہوتی ہے، جب اسکول کے دو بچے دانیہ اور احسن غلطی سے ”ٹائم مشین“ میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد وہ 1940 کے لاہور، 1978 کے کراچی اور پھر اچانک 1965 اور پھر کچھ ہی منٹ میں 1966کے کراچی میں پہنچ جاتے ہیں، اس کے بعد ایک لمبی الٹی قلابازی دونوں کو 1894 میں لے جاتی ہے۔

یہاں سے فلم کے سارے کردار 1998کے چاغی چلے جاتے ہیں جہاں وہ ”ٹائم لوپ“ میں پھنس جاتے ہیں۔ارے یہی نہیں ابھی 2082 کا سفر باقی ہے، جس کے بعد پھر 2017 کا لاہور اور ‘دی اینڈ’ ایک نئے زمانے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس دوران ٹائم مشین کی اس کہانی میں ٹائم ماسٹر، ٹائم لوپ، ٹائم لائن، اور ٹائم بیم کی سوئیوں کی ٹک ٹاک سر چکرا دیتی ہے، یہی نہیں ڈی این اے اور کلوننگ بھی آپ کا امتحان لیتی ہے۔

فلم ساز نے دیکھنے والے بچوں اور بڑوں کو پاکستان کی تاریخ کے کچھ واقعات اور ہیروز سے ملوانے کی کوشش بھی کی ہے، یقیناً اس کوشش کے پیچھے موجود نیک نیتی پر کسی کو شک نہیں لیکن کہانی، اسکرپٹ اور اسکرین پلے سمجھ سے باہر تھا اور اوپر سے ٹریٹمنٹ اور اینیمیشن کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے بھی فلم کے منفی پہلو بہت زیادہ ہیں۔

فلم کا سب سے مثبت پہلو قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح سے غیر رسمی ملاقات تھی۔ فلم کے مزید مثبت پہلوؤں میں بیک گراؤنڈ میوزک، ٹائٹل سانگ اور احسن خان اور غلام محی الدین کی آوازیں ہیں۔علی خان کے تلفظ میں مسائل تھے جو صحیح ہوسکتے تھے ۔ماریہ میمن کی آواز اور انداز، دانیہ کے کردار میں جچا نہیں لیکن انھوں نے کوشش پوری کی تاہم اپنی آواز کی ”لمیٹیشن “ کی وجہ سے وہ تاثر نہیں چھوڑ سکیں جو اینیمیشن فلموں میں درکار ہوتا ہے۔

فلم کا ایک اور مثبت پہلو پاکستان کے قومی کھیل کے ہیروز کو کرکٹ ہیروز پر فوقیت دینا تھا کیونکہ 1978 میں ہاکی اسٹارز زیادہ مشہور اور فالو کیے جاتے تھے لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کھیل کو تباہی کے دہانے تک پہنچادیا گیا۔

فلم کا مجموعی لُک، اینیمیشن اور پروڈکشن سالوں پرانی نظر آئی۔ فلم کے ٹریلر سے ہی فلم نہ دیکھنے کا اعلان کرنے والے ایک دوست نے اس اینیمیشن کا برسوں پرانے دانت صاف کرنے والے پاؤڈر کے ٹی وی اشتہار سے موازنہ کیا تو بات دل کو لگی اور صحیح لگی۔ فلم کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ پاکستان میں” للہ یار دی لیجنڈآف مار خور“ جیسی معیاری اینیمیٹڈ فلم کے صرف 50 دن بعد ریلیز ہوئی۔ وہ فلم اب بھی سینما گھرو ں میں ٹکی ہوئی ہے لیکن اِس ‘ٹِک ٹاک’ کا اگلا ہفتہ بھی مشکل میں نظر آرہا ہے ۔

 ایک پہلو میں ٹِک ٹاک بہت آگے رہی اور اس کیلئے ان کو شاباش بھی دینی چاہیے، وہ یہ کہ اِس فلم میں کسی بھی ایسے لفظ یا جملے کا استعمال نہیں کیا گیا جو بچوں کیلئے یا فیملی کیلئے غیر مناسب ہو۔

دونوں فلموں کی اینیمیشن، ٹریٹمنٹ اور پروڈکشن میں زمین آسمان کا فرق ہے، اسی طرح بزنس میں بھی فرق صاف واضح ہے۔ اُس فلم میں کرداروں، لوکیشن، درخت، پہاڑ اور بہتا پانی پوری فلم میں اسکیچز، ڈیٹیل، کلر کریکشن، اینیمیشن، فائٹ سین، کیمرا اینگلز، ساؤنڈ ایفیکٹس عالمی معیار کے تھے لیکن یہاں بالکل اُلٹ، وہاں صرف ”چکو میاں“ یعنی ننھے تیندوے کے کریکٹر کی اینیمیشن کچھ کمزور تھی لیکن وہ کمزور اینیمیشن یہاں کے حسن، دانیہ، گوبو، کے کے اور ٹائم ماسٹر پر بھی بھاری تھی۔ یہاں تو کریکٹرز کے نہ بال مناسب تھے، نہ آنکھیں نہ کپڑے، نہ چہرہ، نہ رنگ، نہ ہاتھ، نہ چال اور نہ فائٹ، سب بہت ہی ہلکا اور کمزور تھا۔

دونوں فلموں کے موازنے میں ایک پہلو میں ٹِک ٹاک بہت آگے رہی اور اس کے لیے ان کو شاباش بھی دینی چاہیے، وہ یہ کہ اِس فلم میں کسی بھی ایسے لفظ یا جملے کا استعمال نہیں کیا گیا جو بچوں کیلئے یا فیملی کیلئے غیر مناسب ہو۔

فلم ٹک ٹاک کی کہانی، صرف مشکل ہی نہیں ہے بلکہ فلم میں ایک ساتھ بروس لی کا ایکشن، رجنی کانت کا چشمہ پہننے کا انداز، سلطان راہی کا گنڈاسہ چلانے کا انداز اور تو اور ہالی وڈ کی میٹرکس کا مشہور فائٹ سیکوئنس بھی ایک ہی انداز میں بھگتا دیا گیا۔

فلم کا ”کانسیپٹ“ کہانی اور ریسرچ کرنے والوں کو سلام کیونکہ انھوں نے 1894 میں ایسا ڈائریکٹر دکھایا جسے 10 آسکر مل چکے ہیں، حالانکہ اس دور میں آسکر کا وجود تو کیا ہوتا آسکر تو اس دور کے تقریباً 35 سال بعد شروع ہوئے، یہی نہیں جس ہالی وڈ کی فلمیں بھی 15 سال بعد بننی شروع ہوئیں، اُس ہالی وڈ کا بھی اس سین میں ذکر ہے اور تو اور اس وقت تھیٹر ایکٹرز کیلئے نہ تو چکا چوند تھی، نہ ہی پیسہ اور نہ ہی مقبولیت۔

فلم کیلئے ریسرچ کا یہ عالم ہے کہ فلم کے اسپانسر مشہور برگرز فرنچائز کو 1998 میں اُس وقت کے پاکستان میں دکھایا گیا ہے جب ملک میں ایٹمی دھماکے ہوتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فرنچائز اسی سال ستمبر میں شروع ہوئی جبکہ یہ کردار 28 مئی کو چاغی سے کراچی کیلئے سفر کرتے ہیں، اب یہ پانچ مہینوں کا حساب کس سے لیا جائے یہ تو فلم لکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔

فلم میں کئی بار مکالمے کرداروں سے آگے پیچھے ہوئے،کئی جگہ کریکٹر بولتا دکھتا ہے لیکن آواز نہیں آتی، فلم کے بیچ میں جب گوبو پوچھتا ہے ”تمہیں شیکسپیئر پسند ہے“ توپوری فلم کی جان غلام محی الدین صاحب کی آواز اس مکالمے میں کیوں بدل جاتی ہے، یہ بھی فلم دیکھنے والوں کیلئے ایک مسٹری رہے گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »