فلم ریویو: ’پدماوت‘ بڑے کرداروں کی کمزور فلم ’کیوں‘

’پدماوتی‘ جسے اب ”پدومات“ کے نام سے ریلیز کیا گیا ہے اور ’بہترین سینما‘ ہونے کے باوجود ہدایت کار سنجے لیلےٰ بھنسالی کی کمزور فلموں میں سے ایک ہے۔

بحیثیت ایک فلم میکر اور ہدایتکار سنجے نے ’علاؤ الدین خلجی‘ کا کردار بنانے کیلئے مکمل آزادی لی اور انھوں نے جیسے سوچا جیسے چاہا فلم کا یہ ”منفی “کردار تخلیق کیا اور فلم میں دکھایا لیکن دوسری طرف ’پدوماتی‘ اور راجہ رتن سنگھ کے کردار میں ان کی ”گھٹن “صاف نظر آئی۔

بہترین سینما ٹوگرافی، کاسٹیوم، عالیشان سیٹ، شاندار اداکاری، دھواں دار مکالمے اور مہنگی پروڈکشن کے باوجود فلم کی کہانی، کچھ سین اور سنجے لیلےٰ کی ہی پچھلی یادگار اور کلاسک فلموں ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیوداس‘ اور ’باجی راؤ مستانی‘ سے موازنہ فلم کو کمزور کردیتے ہیں۔ ’خاموشی‘ اور سب سے بڑھ کر ’بلیک‘ سے تو کسی بھی فلم کا موازنہ ہی نہیں۔

فلم کی کہانی متنازعہ ہے اور اس کے کئی ”ورژن“ یا” زاویے“ تاریخ میں دستیاب ہیں اور ہدایت کار نے جس شاعری پر یہ فلم بنائی وہ داستان علاؤ الدین خلجی کے تقریبا دو سو سال بعد لکھی گئی اور اب سنجے نے اپنے زاویے سے پیش کی تو دیکھنے والے اسے” فکشن“ یعنی فرضی تصور کر کے فلم دیکھیں۔

فلم شروع ہونے سے پہلے ایک وضاحت ”ڈس کلیمر“کی صورت میں بھی دی گئی کہ اس فلم کی کہانی سے تاریخی حقائق اور کرداروں کا موازنہ نہیں کیا جائے۔

 فلم میں ’ دیوداس‘ جیسی شدت ہے نہ اس جیسے یاد رہ جانے والے مکالمے۔ ”ہم دے چکے صنم“ جیسا موسیقی اور گانے ہیں نہ اس جیسی خوبصورتی اور رنگ، فلم باجی راؤ مستانی سے شاہانہ انداز میں پیچھے بھی رہی۔

ہوسکتا ہے کہ بھارتی انتہا پسندوں کے احتجاج کے بعد فلم ’ایڈٹ‘ اور ’سنسر‘ ہو کر سامنے آئی ہے اس وجہ سے تھوڑی کمزور پڑی ہو اس کے باوجود ’پدماوت‘ سینما میں دیکھنے والی فلم ہے۔

فلم میں شاہد کپور اور دپیکا کا راجپوت شادی شدہ جوڑا ہوتا ہے جن کی سلطنت اور زندگی کو سلطان علاؤ الدین خلجی کے کردار میں رنویر سنگھ تباہ کردیتا ہے لیکن پدماوتی کو پانے میں ناکام ہوجاتا ہے۔

اسی پدماوتی کو جس کو فلم کے مطابق اس وقت کے ہندوستان کے سلطان خلجی نے دیکھا بھی نہیں، فلم دیکھ کر یہ بھی پتا چلتا ہے کہ پدماوتی پر گندی نظر کسی اور کی ہوتی ہے اور یہی شخص پدماوتی سے بدلہ زندگی اور ریاست تباہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن اس شخص کا تعلق” خلجیوں“ سے نہیں ہوتا۔

سنجے نے ’خلجی‘ کا کردار شروع سے ہی فلم دیکھنے والوں کے ذہن اور دل میں بٹھا کر رکھ دیا ہے اور رنویر نے اپنے چھوٹے سے کیریئر میں کئی یادگار کردار ادا کیے ہیں۔

فلم دیکھ کر کئی سین اور واقعات پر الجھن بھی ہوئی لیکن پہلے بات فلم کی جان ”رنویر سنگھ“ کی۔ انہوں نے علاؤ الدین خلجی کا یادگار کردار نبھایا ہے۔

اس بادشاہ کو سنجے نے ضدی، عیار، مکار، جنگلی، جانور، بد کردار اور وحشی لیکن ساتھ میں طاقتور، چالاک، عاشق اور بہادر بھی دکھایا ہے۔

رنویر کو فلم کا ”ولن“ کہنا بھی صحیح نہیں ہوگا کیونکہ فلم دیکھنے والوں کو اس بادشا ہ کی تمام بری حرکتیں دیکھ کربھی اس کردار سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ فلم جب بھی اس کردار سے دور جاتی ہے فلم دیکھنے والے بھی فلم سے دور ہوجاتے ہیں۔

یہاں تک کہ پدماوتی کا حسن اوردپیکا کی اداکاری بھی رنویر کے روپ، اسٹائل اور اداکاری سے پیچھے پیچھے رہے۔

فلم دیکھنے والوں کو رنویر کی انٹری برسوں یاد رہے گی اور فلموں میں ہیرو گھوڑوں، بائیک، گاڑیوں، کشتیوں اور ہاتھیوں کے ساتھ انٹریاں تو دیتے رہے ہیں لیکن رنویر کی اس فلم کی انٹری ”نایاب “ ہے۔

سنجے نے یہ کردار شروع سے ہی فلم دیکھنے والوں کے ذہن اور دل میں بٹھا کر رکھ دیا ہے  اور رنویر نے اپنے چھوٹے سے کیریئر میں کئی یادگار کردار ادا کیے ہیں۔ یہ خلجی کا کردار رنویر کے تاج میں لگا اب تک کا سب سے بڑا ہیرا ہے۔

لگتا ہے یہ فلم بنی ہی رنویر کیلئے ہے اور اس کردار نے دیکھنے والوں کو اپنے ظلم اور ارادوں سے ڈرایا بھی لیکن اپنے بے ساختہ پن سے ہنسایا بھی۔ دشمن بادشاہ کے ساتھ دستر خوان اور میدان جنگ میں بھی اس بادشاہ کے اسٹائل پرسینما میں قہقہے بھی خوب لگے۔

فلم کے بہترین مکالمے بھی رنویر کے حصے میں آئے مثلاً پہلے رانی خطرے میں تھی اب بادشاہ خطرے میں ہے، جل رہے ہیں تو بجھا دو بجھا دو تو اٹھادو، تاج تو بے وفا ہے سر بدلتا ہے، جب کھانے کو اتنا ہے تو خوف کیوں کھائیں، سلطان بننے کیلئے گردن اور ارادے دونوں مضبوط ہونے چاہیئیں۔

فلم میں مکالمے اچھے ضرور ہیں لیکن پھر بھی فلم میں ”دیوداس“ جیسا کوئی مکالمہ نہیں جو فلم دیکھنے والوں کے دل میں نقش ہوجائے۔

فلم کا ٹائٹل رول ”پدماوتی“ دپیکا نے کیا اور انہوں نے اداکاری تو جم کرکی لیکن یہ کردار ”رام لیلےٰ“ والے کردار سے کچھ کم زور اور ”باجی راؤ مستانی“ کے کردار سے کم خوبصورت تھا۔

 اس فلم کو خالصتا فکشن یا فرضی کہانی تصور کر کے ریویولکھا گیا ہے۔ فلم بنانے والوں کے مطابق بھی اس فلم کاحقیقی کرداروں سے کوئی تعلق نہیں

شکار سے خدمت، محبت، شادی، جنگ اور پھر ُاس وقت”قربانی“ سمجھے والے ”انجام“ تک دپیکا بہت حسین لگیں اور پجاری سے پہلی ملاقات اور ”دی اینڈ“ میں دپیکا کی آنکھوں سے باتیں دیکھنے والوں کو یاد رہیں گی۔

شاہد کپور نے راجہ رتن سنگھ کا کردار نبھایا ،شاہد نے اداکاری تو اچھی کی لیکن وہ راجہ کے کردار میں جچے نہیں یا یوں کہیں دپیکا کے ساتھ ان کی ”کیمسٹری“ جمی نہیں۔

فلم کے دوسروں اداکاروں میں رضا مراد نے جلال الدین خلجی اور جم ساربھ نے ملک کافور کے کردار ادا کیا، آدیتی راؤ حیدری کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی جو اپنے چھوٹے سے کردار میں چھا گئیں اور یہ کردار جتنا خوبصورت ہوتا ہے اتنا ہی مظلوم بھی۔

اب بات فلم کے کپتان ہدایت کار سنجے لیلےٰ بھنسالی کی جنھوں نے ’خاموشی‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیو داس‘، ’بلیک‘، ’رام لیلےٰ‘ اور ’باجی راؤ مستانی‘ جیسی بڑی فلمیں ساتھ ہی ’گزارش‘ اور ’سانوریا‘ جیسی ناکام فلمیں بالی وڈ کو دے چکے ہیں۔

یہ فلم سنجے کے اپنے معیار کے حساب سے سنجے کی ٹاپ فور فلموں میں بھی شامل نہیں اور یہ بات آسانی سے اگلے سال فلم فیئر ایوارڈز میں ثابت بھی ہوجائے گی کیونکہ جب بھی سنجے نے اچھی اور کامیاب فلم بنائی ہے اس سے انھیں ایوارڈ ضرور ملا ہے۔

’خاموشی‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیوداس‘، ’بلیک‘ اور ’باجی راؤ مستانی‘ وہ فلمیں ہیں جن سے بھنسالی کو فلم فیئر کا بہترین ڈائریکٹر یا کریٹکس ایوارڈ مل چکا ہے۔

یہی نہیں ان تمام فلموں کی حسینائیں بھی بہترین اداکارہ یا کریٹکس ایوارڈ جیت چکی ہیں لیکن اس فلم سے دپیکا اور سنجے دونوں کو ایوارڈ ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آرہا ہے۔ ہاں اگر اس فلم سے کسی اداکار کو ایوارڈ مل سکتا ہے تو اس کا نام رنویر سنگھ ہے۔

فلم دیکھتے ہوئے یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ فلم بنانے یا اسے ریلیز کرنے میں بہت سمجھوتے کیے گئے۔ فلم کے تنازعے اور بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ کی سب کو خبر ہے۔

ایک طرف خلجی کے کردار کو منفی دکھانے کیلئے ہر قسم کی آزادی لی گئی اور دوسری طرف پدماوتی اور راجہ رتن کے کردار بنانے میں انھیں بالکل سیدھا چلنا پڑا اور فلم دیکھنے کے بعد کئی سوالات ہیں جو ساتھ رہ جاتے ہیں۔

مثلاً کوئی شخص کسی کو دیکھے بغیر اس کی محبت میں کیسے گرفتار ہوگیا اور خلجی کے مسلسل ایک کے بعد دوسرے دھوکے بازی کے باوجود راجہ ہر بار اس کی باتوں پر اعتبار کیوں کر لیتا ہے؟رانی پدماوتی جب اپنے آپ کو جنگی ہنر اور پینتروں میں منوا بھی لیتی ہے تو آخری جنگ میں پیچھے کیوں رہتی ہے؟راجہ سب سے مدد مانگتا ہے لیکن پدماوتی کی اپنی سلطنت ،باپ اور فوج کو بھول جاتا ہے؟ ویسے ان کرداروں کو تو لگتا ہے سنجے بھی فلم کے بیچ میں ہی بھول چکے تھے۔

 فلم کسی کو اچھی لگے یا بری، آئیڈیا صحیح ہو یا غلط، باکس آفس پر ہٹ ہو یا فلاپ سنجے اپنے زاویے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

فلم کے اختتام میں جس طرح راجہ رتن پر حملہ ہوتا ہے اسی طرح کا موقع راجہ رتن کے سپاہیوں کے پاس بھی ہوتا ہے وہ ”خلجی“ پر اس طرح حملہ کیوں نہیں کرتے؟

خیر ان سوالات کے جواب تو آپ بھی تلاش کیجیے گا لیکن یہاں یہ بھی لگتا ہے خود سنجے کا ہیرو”خلجی“ ہی ہوتا ہے جسے پوری کوشش کے باوجود فلم کا ”ولن“ نہیں کہا جاسکتا۔

فلم دیکھ کرسنجے کی پرانی فلموں کے مشہور مناظر بھی یاد آجاتے ہیں مثلا ’ہم دل چکے صنم‘ کا سدا بہار فانوس والا سین جہاں سلمان اور ایشوریا کی آنکھیں چار ہوتی ہیں۔

سنجے جب بھی فلم بناتے ہیں دل لگا کر پیسہ اور پسینہ بہا کر بناتے ہیں۔ فلم کسی کو اچھی لگے یا بری، آئیڈیا صحیح ہو یا غلط، باکس آفس پر ہٹ ہو یا فلاپ سنجے اپنے زاویے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

اب چاہے اس کی مثال فلم ’خاموشی‘ میں نانا پاٹیکر کو ایسے باپ کے کردار میں کاسٹ کرنا ہو جو نہ بول سکتا تھا نہ سن سکتا تھا۔ ”ہم دل دے چکے صنم “ میں جب سب دیکھنے والے ایشوریا کی سلمان خان کی طرف واپسی کیلئے تیار اور بے چین ہوتے ہیں عین اس وقت اجے دیوگن کی جیت دکھا کر کئی دیکھنے والوں کے دل توڑے گئے۔

سلمان اور ایشوریا اُس اینڈ کے بعد ایسے الگ ہوئے کہ آج تک ان کے قصے سب کی زبان پر ہیں۔

اپنے وقت کی سب سے مہنگی فلم ’دیوداس‘ میں چنی بابو کے کردار میں گوندا کو کاسٹ کیا جو اچانک فلم چھوڑ کر چلے گئے بعد میں یہ کردار جیکی شیروف نے کیا۔

رنبیر اور سونم کی پہلی فلم ”سانوریا“ کو اپنے خیالوں کی پریوں کے ایسے دیس میں شوٹ کیا کہ آج تک اس فلم کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ’بلیک‘ میں استاد اور شاگرد کا ایک ایسا سین بھی سب کو دکھایا جس پر بہت اعتراض آیا اور شاید اس کی فلم میں ضرورت تھی بھی نہیں۔

’گزارش‘ میں ریتھک روشن سے اداکاری تو زبردست کروائی لیکن دیکھنے والوں نے اپنے سپر ہیرو کو معذور اپاہج اور کمزور دیکھ کر فلم کو پسند نہیں کیا۔ ’رام لیلیٰ‘ بنائی تو کرینہ کی چھٹی کرکے دپیکا کو سائن کیا اور پھر دپیکا کی محنت، روپ اور ایکٹنگ ایسی بھائی کہ مسلسل تین فلمیں دپیکا کیلئے بنائی۔

ان تینوں فلموں میں دپیکا کا مرکزی اور ٹائٹل رول تھا، سنجے لیلیٰ بھنسالی نے ’رام لیلیٰ‘ اور ’باجی راؤ مستانی‘ میں ایسے گانے بھی استعمال کیے جو اس دور کی عکاسی نہیں کرتے تھے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گانوں پر اعتراض تو ہوا لیکن یہ دونوں گانے زبردست ہٹ بھی ہوئے۔

ان گانوں میں رام لیلیٰ کا آئٹم سانگ جو پریانکا پر پکچرائز ہوا تھا اور دوسرا ’باجی راؤ مستانی‘ کا ”ملہاری“ تھا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا لگتا ہے فلم کو ریلیز کرنے کیلئے اس پر سمجھوتے بھی کیے گئے اور فلم کا میوزک اور گانے بھی بہت ہی کمزور نکلے۔

اس کے ذمہ دار سنجے ہی تھے جو فلم کے میوزک ڈائریکٹر بھی ہیں لیکن فلم کا بیک گراؤنڈ شاندار ہے۔

فلم کے پروڈکشن ڈیزائن، کاسٹیوم، میک اپ، سیٹ اور لوکیشن پر بھی محنت کی گئی لیکن کچھ ویژول ایفکٹس اتنے موثر دکھائی نہیں دیے خاص طور پر خلجی کے لشکر میں شامل ہاتھی اسکرین پر مصنوعی ہی لگے۔

میدان جنگ کے سین اور لڑائی کے مناظر میں بھی ”شدت“ کی شدید کمی نظر آئی اور فلم کی رفتار بھی بہت کم ہے۔ ایک طرف لڑائی کیلئے سپاہی تیار ہورہے ہوتے دوسری طرف راجہ رانی کے رومانس سے فلم اور ”سلو “ ہو جاتی ہے۔

فلم کی سینماٹو گرافی ایوارڈز کیلئے فیورٹ ہے کیونکہ سنجے کی فلموں میں سینماٹو گرافر کوئی بھی ہو اس کا کام اعلیٰ ہوتا ہے۔

فلم میں مورخوں اور بادشاہ کاکا کردار دیکھ کر تھوڑا سا کلاسک ڈرامہ ’با ادب با ملاحظہ ہوشیار‘ اور قاسم جلالی بھی یاد آگئے۔ فلم میں ہماری سیاسی تاریخ کے مشہور”نظریہ ضرورت“ کی بھی تعریف پیش کی گئی۔

فلم کامیاب تو ہوگی لیکن فلم کا اپنے دیس میں بزنس 150 کروڑ کے آس پاس ہی نظر آرہا ہے لیکن فلم سے تینوں مرکزی کرداروں کو باکس آفس پر کامیابی مل جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں کی پچھلی فلمیں ریلیز ہو کرناکام ہوئیں تھیں جس میں شاہد کپور کی ’رنگون‘ اور رنویر سنگھ کی ’بے فکرے‘ بالی وڈ جب کہ دپیکا کی ون ڈیزل کے ساتھ فلم” ٹرپل ایکس“ ہالی وڈ میں بری طرح ناکام ہوئیں تھیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.