# میڈیا _ پر فحاشی_ روکو

میڈیا آجکل بے لگام ہوچکا ہے اور ٹی وی چینلز اپنی ریٹنگ بڑھانے اور بینک بینلس میں اضافے کیلئے ہر چیز عوام کو دکھا رہا ہے جس سے آج نسل خراب ہورہی ہے اور اسی وجہ سے زینب جیسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔
اس سلسلے میں وقاص امجد کا ٹویٹ تھا : پاکستان کے وہ سنہری دن ہوا کرتے تھے جب ہر ڈرامہ پاک صاف ہوا کرتا تھا اور اس میں پاکستانی ثقافت کی عکاسی کی جاتی تھی۔ میں عام پاکستانی ہوں اور سمجھتا ہوں کہ میڈیا ہماری ثقافت کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے۔ اسکے خلاف مہم شروع ہونی چاہئے۔
فرحان ورک ٹویٹ کرتے ہیں: ہمارے نیوز چینلز تک بالی وڈ کے اشتہارات دکھا رہے ہیں جنہیں روکنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے 20لاکھ بزرگوں نے ا پنی پاکستانی شناخت ختم کرنے کیلئے قربانیاں نہیں دی تھیں۔
احمد خان ٹویٹ کرتے ہیں : جعلی خبریں بھی میڈیا کو متاثر کررہی ہیں۔ اسکی وجہ سے صحافی کیلئے مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ کیا لکھے اور کیا نہیں۔
نبیل چوہدری نے ایک تصویر اپنے اکاﺅنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ اگر آپ اس قسم کی تصاویر کو پسند کرتے ہیں توپھر مزید زینب جیسے واقعات کیلئے تیار رہیں۔
سید سیف اللہ کا ٹوئٹ تھا : پاکستانی ٹی وی چینلز کو شرم آنی چاہئے کہ وہ ہماری نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بے شرم لوگ ہیں۔
نایاب خان نے لکھا: جب آپ کہتے ہیں کہ پاکستانی بنئے اورپاکستان کو سپورٹ کریں تو پھر ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آپ پاکستانی ہیں اور آپ کسی ایسی چیز کو پسند نہیں کرسکتے جو ہماری ثقافت کے منافی ہو کیونکہ ہم پاکستانی ہیں۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.