Latest news

پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، وزیراعظم کا ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب

پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، وزیراعظم کا ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب

ڈاووس، وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکناک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 80 کی دہائی میں پاکستان افغان جہاد اور امریکی اتحاد کا حصہ بنا، افغان جہاد کے بعد امریکا چلا گیا اور ہمیں شدت پسندوں کے حوالے کرگیا۔افغان جہاد کے بعد عسکری تنظیموں نے کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھایا، عسکریت پسندوں کو غیرمسلح کرنے میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا ایران کشیدگی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، حکومت میں آنے کے بعد معاشی لحاظ سے سخت فیصلے کرنا پڑے، سخت فیصلے کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم صرف امن کے خواہاں ممالک کے شراکت دار ہوں گے، پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سخت معاشی فیصلوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کو نظر انداز کیا گیا، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کررہے ہیں، رواں سال ہم اقتصادی گروتھ کے لیے کام کررہےہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی وسائل کو استعمال میں لائیں گے، چین کی مدد سے ایگری کلچر میں اصلاحات لارہے ہیں، پاکستان اسٹریٹیجک لحاظ سے خطے کا اہم ترین ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بھارت بہتر تعلقات ہوئے تو دونوں ممالک ترقی کریں گے، بدقسمتی سے پاک بھارت تعلقات وہ نہیں جو ہونے چاہئے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی اداروں کو تباہ کیا گیا، ہماری کوشش ہے کہ اداروں کو مضبوط کریں، ملک میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپوں کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، نائن الیون کے بعد 2019 پاکستان کا محفوظ ترین سال تھا، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے کثیر سرمایہ لگایا جارہا ہے، 2019 میں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں سیاحتی انڈسٹری مزید بڑھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں جو بھی شورش ہوتی ہے وہ افغانستان سے آتی ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے، امن کے لیے ضروری ہے افغان طالبان اور حکومت مل بیٹھے۔

عمران خان نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا دو ممالک کسی تنازع پر جنگ کیوں کرتے ہیں، امریکا نے جنگ میں کھربوں ڈالر خرچ کردئیے نتیجہ کیا نکلا، امریکا ایران جنگ خطے سمیت دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو کہا تھا امریکا ایران جنگ نہیں ہونی چاہئے، جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، امریکی صدر خاموش تھے لیکن مجھے لگتا ہے وہ سمجھ گئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کے تہرے معیار کو ختم کرکے یکساں نظام لانا چاہتا ہوں، معاشی صورتحال کے باعث جس طرح تنقید ہوئی ایسا ماضی میں نہیں ہوا، امید ہے جلد معاشی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہوگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.