’’فرہنگِ آسفیہ‘‘

ہماری طرح آپ سب نے بھی اُردو میں سمجھنے ، سمجھانے، بولنے بُلانے، ماننے منانے ، رونے رُلانے، روٹھنے رُٹھانے، ہنسنے ہنسانے، کھانے کھلانے اور دھونے دھلانے کیلئے درکار الفاظ اور ان کا استعمال سمجھنے کیلئے برصغیر پاک و ہند کے 2انتہائی ذہین و فطین ناموں’’آصف‘‘ اور ’’فیروز‘‘ کی تحاریر تو ضرور پڑھی ہوں گی تو بھائی، ’’آصف‘‘ کی تدوین ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ اور بھیا،’’فیروز‘‘ کی محنت ’’فیروز الغات‘‘کے نام سے اکثر گھروں، لائبریریوں، کتب خانوں، اسکولوں، کالجوں، اخبار کے دفتروںمیں کسی نے کسی حال میں موجود ہوتی ہیں۔انہی’’ فیروز و آصف‘‘ نے ہمیں نوخیز عمری میں باور کرایا کہ محترم نام نہاد ریختہ داں، آپ جو لفظ’’ اژدہام‘‘ لکھتے ہیں ، یہ اصل میں ’’ازدحام‘‘ ہے۔ نجانے آپ اس لفظ میں’’ رے ‘‘کی جگہ’’ ژے‘‘ اور ’’ح‘‘ کی بجائے ’’ہ‘‘ کیوں ٹھونس دیتے ہیں؟اسی طرح انہوں نے ہمیں یہ سمجھ عطا کی کہ لفظ ’’گھمبیر‘‘ میں میم پہلے ہے اور ’’ھ‘‘ بعد میں چنانچہ یہ لفظ’’گمبھیر‘‘ ہے ، ’’گھمبیر‘‘ نہیں۔ انہی آصف و فیروز نے ہمیں باور کرایا کہ ’’کارروائی میں ’’ر‘‘ دو مرتبہ لکھا جاتا ہے اور کارواں میں صرف ایک مرتبہ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’خصم‘‘ سے مراد دشمن، بیری وغیرہ ہوتا ہے اور اردو میں شوہر کو بھی ’’خصم‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہاں لفظ ’’خصم‘‘ کے مفاہیم کے حوالے سے ہم ’’فیروز و آصف‘‘ سے ذرا اختلاف کرنے کی جرأت کر رہے ہیں کیونکہ بہر حال اُردو ہماری قومی زبان ہے اور قومی وتیرہ اور قومی اثاثہ ہونے کے باعث ہمیں اس سے ’’چھیڑ چھاڑ‘‘ کرنے کا مکمل ’’پاکستانی حق‘‘ حاصل ہے۔ اس حق کا استعمال کرتے ہوئے ہم ببانگ دہل یہ کہنا چاہیں گے کہ معاشرے میں شادی کے نتیجے میںجو جوڑا سامنے آتا ہے اس میںشامل’’نر‘‘کو دولہا،سرتاج،شریک حیات، ہم سفر، شوہر، میاں، خاوند اور یہاں تک کہ خصم کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اردو کا دامن انگریزی کی طرح ’’تنگ‘‘ نہیں ہے کہ جس میں شادی کے بعد قائم ہونے والے تعلق کے’’ نرینہ‘‘فریق کو ’’ہسبینڈ‘‘ کے سوا کچھ نہ کہا جا سکے۔ وہ ظالم ہو تو ہسبینڈ، مظلوم ہو تو ہسبینڈ، کماتا ہو تو ہسبینڈ، نہ کماتا ہو تو ہسبینڈ، فریفتہ ہو تو ہسبینڈ ، بیوی کو بالکل نہ دیکھتا ہو تو ہسبینڈ۔ اردو کا دامن بہت وسیع ہے اور یہ زبان نہایت فصیح و بلیغ ہے ۔اس کی ایک مثال یہاں موجود ہے کہ شادی کے بعد عورت فریق ثانی کو اپنے نو قائم شدہ رشتے کی بنیاد پر کم از کم 8ناموں یا اصطلاحوں سے پکار سکتی ہے۔ شادی کے ابتدائی ایام میں جب زندگی نیا موڑ لیتی ہے اور زن ہو یا شو، دونوں کو ہی دن اور رات رنگین اور انتہائی سہانے لگتے ہیں تو دلہن اپنے شوہر کو ’’دولہا ‘‘ کہتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ جب شادی پرانی ہونے لگتی ہے تو عورت خود کو تو دلہن ہی کہتی ہے مگر فریق ثانی کیلئے وہ حالات ، معمولات اور خیالات کے مطابق نام بدلنا شروع کر دیتی ہے اور ایک وہ دور بھی آتا ہے جب عورت کہتی ہے کہ شادی کے نام پر میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی ، اب وہ ماضی کے دولہا کو ’’خصم‘‘ کہہ کر بھڑاس نکالتی ہے ۔
ہم ربع صدی پہلے مملکت آئے ۔اس مقام پر ہم اپنے قارئین کرام کو بصد افتخار یہ باور کرانا چاہتے ہیںکہ یہاں آکر ہمارے ساتھ عجیب واقعات ہوئے، ان واقعات میں زبان کے حوالے سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ اپنی اس آموزش یا تجربے کو ہم نے ایک فرہنگ کی شکل دینے کا عزم کیا تاکہ خانوادۂ ریختہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہن بھائی استفادہ کرسکیں۔ ہم نے اس کا نام ’’فرہنگِ آسفیہ‘‘رکھا ہے۔ ویسے تو ’’آصف‘‘میں ’’ص‘‘ آتا ہے مگر ہم نے یہ نام ’’آسف‘‘رکھا ہے ۔ اس کا سبب وہ واقعات ہیں جنہوں نے ہماری زندگی، ہماری سوچ، ہماری شخصیت، ہمارا مزاج، ہمارا انداز، سبھی کچھ بدل دیا ۔ان تمام واقعات کا احاطہ تو ناممکن ہے مگر دو تین واقعات کا ذکر ناگزیر ہے ، ملاحظہ فرمائیے:
یہاں آنے سے قبل ہم زمین پر کسی چلتی پھرتی شے سے بالکل نہیں ڈرتے تھے البتہ اپنے ہاں کی پولیس کو دیکھ کر ہمارے پیروں تلے سے زمین کھسک جاتی تھی اور ہاتھوں کے طوطے اَڑ جاتے تھے۔مملکت پہنچے تویہاں کی گاڑیاں اور وردیاں ہمارے ہاں کی پولیس سے بالکل مختلف تھیںہیں ،چنانچہ شروع شروع میں ہمیں ان سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا تھامگر پھرایک روز ایسا ہوا کہ رات کے 2بجے تھے۔ ہم چہل قدمی کے ارادے سے سڑک کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے۔ اچانک پولیس کی گاڑی ہمارے قریب آ کر رُکی ، اس نے ہم سے پوچھا ’’فین سیارہ؟‘‘ہم نے کہا ’’سیارہ فی الفلک، ھٰذا ارض، سیارہ کمان‘‘پھر جو ہوا وہ ہم بیان کرنا نہیں چاہتے ۔
ایک اور واقعہ یوں ہوا کہ ہم بلد کے بازار میں کچھ تلاش کر رہے تھے کہ پاس سے گزرنے والے ایک نوجوان کی کہنی ہمارے بازو سے متصادم ہوگئی۔ یہ ہمارے لئے عام سی بات تھی مگر اس نے تو یوں سمجھیں کہ اسے دل پر ہی لے لیا۔ وہ رُکا، پلٹا، ہمارا ہاتھ تھاما اور ہم سے مصافحہ کرنے کے بعد انتہائی لجاجت سے بولا ’’انا آسف‘‘، ہم نے جواباً کہا ’’انا شہزاد‘‘، اس نے کہا ’’یعنی‘‘ ہم نے کہا ’’سن آف اے کنگ‘‘۔ اس نے استعجابیہ اشارہ کرتے ہوئے اپنی راہ لی۔یہ واقعہ ہم نے اپنے عربی داں دوست کو سنایا تو اس نے کہا کہ ’’بزرگو! ’’آسف‘‘ کا مطلب ہے ’’افسوس کرنا،معافی چاہنا۔‘‘اس نے در اصل آپ سے کہا تھا کہ ’’آئی ایم سوری۔‘‘
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہماری نانی خالہ عمرے کی ادائیگی کیلئے آئیں تو ہم انہیں شاپنگ کرانے کیلئے بلد لے گئے۔ وہاںزنانہ  ملبوسات کی بہت بڑی دکان کے باہر بڑے بڑے پوسٹرلٹکے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا ’’40فیصد خصم‘‘۔یہ پوسٹر دیکھ کر ہماری نانی خالہ نے عالم تحیر میں غوطہ زن ہو کر پوچھا’’آئے ہائے یہ کیسی بے شرمی کی بات ہے،اتنا بڑا بڑا لکھا ہے 40فیصد خصم ۔‘‘ہم نے انہیں بھناتے دیکھا تو فوراً سمجھایا کہ نانی خالہ اس کا مطلب رعایت ہے، یہ اردو والا خصم نہیں۔ یہ سن کر ہماری نانی خالہ نے کہا کہ ہاں بیٹا، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جو چیز جہاں کی ہو، وہیں اچھی لگتی ہے۔اب دیکھ لو، یہی خصم والا پوسٹر پاکستان میں کہیں لٹکا دو تو ہنگامہ ہوجائے۔ اب یہی دیکھ لو یہاں میں نے ایک خاتون کو دیکھا جس کی شکل ’’شیبابٹ‘‘سے مل رہی تھی، میں نے اسے کہا کہ آپ شیبا ہیں، یہ سنتے ہی وہ میرے پیچھے ہاتھ دھو کرپڑ گئی کہ شیبا ہو گی تو، تیرا خاندان۔ دیکھا ناں تم نے کہ کہیں کی چیز کہیں پہنچ جائے توکہیں کی نہیں رہتی۔ کہیں دور نہ جائو ہمارے ملک میں جمہوریت کی مثال لے لو،یہ پڑھے لکھے، ترقی یافتہ ، اصول پسند معاشرے کا نظام ہے اور انہی ترقی یافتہ ممالک میں کامیاب ہے، وہ نظام ہمارے جیسے ترقی پذیر، ناخواندگی کا شکار، بے اصولیوں کے گرداب میں گھرے معاشرے میں پہنچا تو وہ نظام تو کیا ناکام ہوتا، اس نے ہمیں ہی ناکام کر نے کی ٹھان لی۔پاکستان میں نظام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ، اس کی وجہ وہی ہے کہ جمہوریت، کہیں کا نظام تھا، کہیں پہنچ گیا اور کہیں کا نہیں رہا۔نانی خالہ کی ان باتوں نے ہی ہمیں ’’فرہنگِ آسفیہ‘‘کی تدوین پر مجبور کیا، کل کو ہمارا نام بھی، آصف و فیروزکیساتھ آئے گا۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.