اسپانسرز فرار، سعید اجمل و دیگر پاکستانی کرکٹرز یوگنڈا میں پھنس گئے

انڈین کرکٹ لیگ اور ابوظبی کی ماسٹرز لیگ کے بعد یوگنڈا میں ہونے والی ایفرو ٹی ٹوئنٹی لیگ کا بھی دھڑن تختہ ہوگیا، اسپانسرز ٹورنامنٹ ادھورا چھوڑ کربھاگ گئے جس کی وجہ سے پاکستان کے کئی کھلاڑی یو گنڈا کے شہرکمپالا میں پھنس گئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) دنیا بھر کی لیگز میں اپنے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کردیتا ہے اور کھلاڑی بغیر کسی تصدیق کے غیر ملکی لیگز میں شرکت کے معاہدے کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کیس کے دفاع میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اب یوگنڈا میں پاکستانی کھلاڑی بے یار و مدد گار پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ رُل کر رہ گئے ہیں، ان کےپاس پیسے ختم ہوچکے ہیں اور واپسی کے لئے ٹکٹ بھی نہیں ہے۔یوگنڈا میں ایفرو ٹی ٹوئنٹی لیگ کےمنتظمین نے اچانک حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے لیگ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور کھلاڑی پریشانی کی حالت میں واپسی کے منتظر ہیں۔ٹورنامنٹ میں اکثر غیر ملکی کرکٹرز پاکستان کے تھے جبکہ ویسٹ انڈیز، بھارت اور امریکا کے علاوہ مقامی کھلاڑیوں نے بھی لیگ میں شرکت کی۔پاکستان کے کھلاڑیوں کے علاوہ دیگر غیر ملکی کرکٹرز تیسرے درجے کے تھے جن کی تعداد22 بتائی جاتی ہے۔متاثرہ پاکستانی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ جو معاوضہ طے ہوا تھا اس میں سے ایک پیسے کی بھی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔سابق کپتان عامر سہیل کمنٹیٹر کی حیثیت سے کمپالا گئے تھے وہ کھلاڑیوں کو ریسکیو کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ استعمال کررہے ہیں۔پاکستان کے جو کھلاڑی یوگنڈا میں پھنسے ہوئے ہیں ان میں اسٹار کرکٹر سعید اجمل، ٹیسٹ کرکٹرعمران خان جونیئر،یاسر حمید اور انٹرنیشنل کرکٹر مختار احمد بھی شامل ہیں۔کرکٹرز کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دن اذیت میں گزرے اور انہیں کھانا بھی فراہم نہیں کیا گیا، ایک کمرے میں 8,8 کھلاڑی رہ رہے ہیں۔یوگنڈا میں پاکستانی کمیونٹی کوشش کررہی ہے کہ کھلاڑیوں کو واپسی کے ٹکٹ کراکر دیئے جائیں۔حد درجہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ایفرو لیگ آئی سی سی سے منظور شدہ تھی اور پاکستان کے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر محمد خلیل نے کھلاڑیوں کے معاہدے کرائے تھے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.