اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور ایشیا کپ نہ ہونے سے پاکستان کو بہت نقصان ہو گا

لاہور: ایشین کرکٹ کونسل نے پہلے ایشیا کپ 2020 ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو پھر گزشتہ ہفتے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اس برس آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ بھی ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

دونوں ایونٹس کووڈ-19 کی وجہ سے التوا کا شکار ہو ئے جب کہ اس کے علاوہ کئی باہمی سیریز بھی کووڈ-19 کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکی ہیں۔ سابق ٹسیٹ کرکٹر مدثر نذر نے موجودہ صورتحال پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بڑی مشکل قرار دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان ایونٹس کے نہ ہونے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا مالی طور پر بہت نقصان ہو گا اور اس کے اثرات ڈویلپمنٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ پر نظر آئیں گے۔

‏ مدثر نذر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اور اے سی سی کی جانب سے جو بھی فنڈز ملتے ہیں وہ ڈویلپمنٹ کے لیے ملتے ہیں اور یہ فنڈز ایونٹس کے انعقاد کے بعد ملتے ہیں اب جب کہ ایونٹس ہی نہیں ہو ں گے تو پھر فنڈز بھی یا تو ملیں گے نہیں یا کم ملیں گے۔ یہ فنڈز کرکٹ بورڈز کے علاوہ ایمرجنگ ممالک کو بھی ملتے ہیں، اگر پاکستان کی بات کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ فنڈز نہ ملنے سے پی سی بی کا بہت نقصان ہو گا اور اس کے پاکستان کرکٹ پر منفی اثرات پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے ایک برس تو صوبائی سطح کی کرکٹ کرا لی اور اس پر خطیر رقم بھی صرف کر دی، اب نچلی سطح پر بھی تو کرکٹ کرانا ہے وہ کیسے کرائی جائے گی، اسپانسرز تو پہلے ہی نہیں ملے تھے، اب صورتحال ایسی ہے کہ اسپانسرز ملیں گے بھی نہیں۔ اس طرح جب گورننگ باڈیز سے پیسہ نہیں ملے گا تو پھر ڈویلپمنٹ پر خرچ کہاں سے ہو گا۔

‏ سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے مالی طور پر مسائل پیدا ہوں گے، ڈویلپمنٹ کام میں پہلے ہی تسلسل نہیں ہے اور جتنا بھی کام ہوا ہے وہ کم ہوا ہے، اب اس صورتحال میں کام مزید رک جائے گا اور نتیجتاً اس کا نقصان کرکٹ کو ہو گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.