فاسٹ بولنگ پاکستان کی پہچان ہے، وقار یونس

لاہور: بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ فاسٹ بولنگ پاکستان کی پہچان ہے۔

دورہ انگلینڈ کے فوری بعد اپنے دوسرے ملک آسٹریلیا روانہ ہونے والے قومی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے جاتے جاتے طویل مدتی منصوبہ بندی ظاہر کردی،پی سی بی کی ویب سائٹ کیلیے کالم میں انھوں نے تحریر کیاکہ فاسٹ بولنگ پاکستان کی پہچان رہی ہے، اس ملک نے کئی عظیم بولرز پیدا کیے،مستقبل بھی روشن نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور محمد موسیٰ سمیت باصلاحیت نوجوان پیسرز کی ایک کھیپ میسر ہے، ان میں سے بیشتر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر سکتے ہیں لیکن ابھی ان کے پاس تجربہ نہیں، بدقسمتی سے میدان میں ان کی رہنمائی کرنے والے سینئر بولرز موجود نہیں، تعمیر نو کے دور میں ہر ملک کو اسی طرح کے تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستانی بولرز کو بھی ٹریک پر آنے میں وقت لگے گا۔

وقار یونس نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے دورہ انگلینڈ کی تیاری کو مثالی نہیں کہا جا سکتا، بعض مواقع پر مایوسی بھی ہوئی مگر بولرز بہتری کی طرف گامزن نظر آئے ہیں، فاسٹ بولنگ ایک مشقت طلب کام ہے، راتوں رات نہیں سیکھ سکتے، بولرز میں کارکردگی دکھانے کی بھوک ہے، اگرچہ مجموعی طور پر ٹیم کی فٹنس میں بہتری آئی لیکن ابھی ہم دنیا سے تھوڑا پیچھے ہیں، بولرز کی فٹنس پر کام کرنا ہوگا۔

سابق کپتان نے کہا کہ ٹیلنٹ نکھارنے کے لیے ان کو فرسٹ کلاس سمیت زیادہ سے زیادہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ جسم ٹیسٹ کرکٹ کے عادی ہو جائیں تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے، بولرز کو آسٹریلیا اور انگلینڈ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں اور کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ بھی دلانا ہو گا، موجودہ دور کے عظیم بولرز جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ بھی ابتدا میں ٹیم کے اندر باہر ہوتے رہے، اسٹارز کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ان کو بھی وقت لگ گیا تھا،ہمیں بھی صبر سے کام لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز بھی محنت سے فٹنس اور مہارت بہتر بنا کر نام کما سکتے ہیں۔ انھوں نے مختلف ملکوں میں ہونے والی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ہی برانڈ کی گیند استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ تھوک کے استعمال کی ممانعت کے باوجود انگلش کنڈیشنز میں ڈیوک بال سے کھیلتے ہوئے بولرز کو زیادہ مسائل پیش نہیں آئے،پچز خشک اور میدان سرسبز تھے۔

یہ گیند جلد نرم نہیں پڑی، ہوا میں نمی سے بھی مدد ملی، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دیگر ملکوں میں دوسرے برانڈز کی گیندوں کا کیا رویہ ہوتا ہے، میرے خیال میں اگر پوری دنیا کی ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ایک برانڈ کی گیند استعمال کی جائے تو بولرز کو بار بار اپنی تکنیک اور مہارت تبدیل کرنے کیلیے محنت نہیں کرنا پڑے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.