اہم خبرِیں
پاکستان کا 73واں جشن آزادی، ملک بھر میں چودہ اگست کا شاندار ا... بھارت نے امن کوداؤ پرلگادیا، ڈی جی آئی ایس پی کے الیکٹرک خریدار کی جانچ پڑتال کی جائے، چیف جسٹس آج بھارت میں ایک ہندو اسٹیٹ جنم لے رہی ہے، شاہ محمود قریشی ترکی اورفرانس کی افواج آمنے سامنے، فوجی جھڑپ کا خطرہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو بجٹ خسارے کا سامنا یوٹیوب نے ای میل سروس بند کردی ڈاکٹروں کی طرح سوچنے والا "اے آئی سسٹم" تیار نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے پاکستان انگلینڈ دوسرا ٹیسٹ، آج ساؤتھمپٹن میں شروع ہو گا خیبرپختونخوا، انسداد پولیومہم شروع کورونا وائرس کے مزید 730 کیسز رپورٹ تین ہزار سال قدیم واٹر سپلائی سسٹم پاکستان میں کہاں موجود ہے؟ سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ، قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان ایران ہتھیاروں کا استعمال بند کرے، امریکا کوئٹہ: دکان پر دستی بم حملہ،بچہ جاں بحق سندھ بھر میں 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی عائد قرضوں کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کردی گئی اونرشپ کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، عمران خان

ثقلین مشتاق نے چنائی ٹیسٹ میں ٹنڈولکر کو آؤٹ کرنے کا راز افشا کر دیا

ثقلین مشتاق نے چنائی ٹیسٹ میں ٹنڈولکر کو آؤٹ کرنے کا راز افشا کر دیا

لاہور: پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے یادگار ٹیسٹ میچ چنائی ٹیسٹ کے ہیرو ثقلین مشتاق نے یادداشت کو آواز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاریخی دن اللہ ان کے ساتھ تھا، اس لیے انھوں نے اپنے کیریئر کی یادگار ترین کارکردگی دکھائی۔

 دوسرا کے مؤجد کہلانے والے سابق پاکستانی آف اسپنر ثقلین مشتاق نے کہا ہے کہ جب وہ چنائی ٹیسٹ میں لیجنڈ بلے باز سچن ٹنڈولکر کی وکٹ لے رہے تھے تو اس دن اللہ ان کے ساتھ تھا۔

ثقلین نے کہا کہ اس دن اللہ میرے ساتھ تھا، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ماسٹر بلاسٹر (سچن ٹنڈولکر) کی وکٹ حاصل کر لوں گا، لیکن جب اللہ فیصلہ کرتا ہے تو اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ چنائی ٹیسٹ 1999 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا تھا، جس میں پاکستان ٹیم نے روایتی حریف کو 12 رنز سے شکست دی تھی، اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ ثقلین مشتاق نے اس میں 10 وکٹیں لے لی تھیں، جس میں ٹنڈولکر کی بڑی وکٹ بھی شامل تھی، انھوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 136 رنز بنائے تھے، اور وہ بھارت کو میچ جتوانے کی طرف لے جا رہے تھے۔

سابق اسپنر نے اس یادگار میچ سے متعلق کہا کہ میری زندگی کی آخری سانس تک مجھے اس پر فخر کا احساس ہوتا رہے گا کہ میں نے اس دن ٹنڈولکر کو آؤٹ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں سچن جب بیٹنگ کے لیے آتا تو کسی کو نہیں چھوڑتا تھا، وہ بہت خوب صورتی سے کھیلتا، میں وسیم بھائی (اس وقت ٹیم کے کپتان وسیم اکرم) کے پاس گیا اور کہا ٹنڈولکر کو آؤٹ کرنا بولرز کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے، میں تھوڑا سا نفسیاتی دباؤ بھی محسوس کر رہا تھا۔

ثلقین مشتاق کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں انھیں دوسرا کرنے سے ڈر رہا تھا لیکن اس وقت وسیم اکرم نے بھرپور اعتماد دیا اور کہا کہ میں ٹیم کے لیے کوئی جادو دکھا سکتا ہوں، ان الفاظ نے بڑی مدد کی اور میں نئے جذبے سے بولنگ کرنے لگا، کئی باؤنڈریز لگیں لیکن آخر کار میں نے ٹنڈولکر کو آؤٹ کر دیا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.