واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا فیس بک کو دینے پر قانونی کارروائی کا سامنا

سوشل میڈیا پر پیغام رسانی کی مقبول ترین ایپلی کیشن واٹس ایپ کو صارفین کی معلومات بغیر اجازت کے فیس بک کو فراہم کرنے پر فرانس میں قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن ایجنسی سی این آئی ایل نے واٹس ایپ انتظامیہ کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئرنگ بند نہ کی تو اس پر جرمانہ لگے گا۔فرنچ ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئر کرنے کے لیے صارفین سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار تھا۔فرانس کے بعد یورپین پرائیویسی واچ ڈاگ نے بھی واٹس ایپ کو خلاف قانون صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے پر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ نے معاہدے کی منظوری کے وقت ایسے کسی قانون پر دستخط نہیں کیے تھے کہ وہ پرائیویسی پالیسی کے خلاف لوگوں کا ڈیٹا شیئر کر سکیں گے۔جرمنی نے بھی اس حوالے سے فیس بک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اجازت درکار  ہوتی ہے۔ فیس بک انتظامیہ نے جرمنی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔دوسری جانب واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرائیویسی ہمارے لیے بہت اہم ہے اس لیے ہم چھوٹے سے چھوٹے ڈیٹا اور میسج کو بھی اکٹھا کرتے ہیں۔یاد رہے کہ فیس بک نے واٹس ایپ کو 2014 میں 22 ارب ڈالر میں خریدا تھا اور واٹس ایپ نے صارفین کا ڈیٹا فیس بک کو فراہم کرنے کا آغاز گزشتہ برس کیا تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.