Daily Taqat

تاریخی خلائی جہاز وائیجراول اور دوم بہت جلد بے کار ہوجائیں گے

واشنگٹن: اب سے 44 برس قبل خلائے بسیط میں بھیجے جانے والے مشہور خلائی جہاز وائیجر اول اور دوم اب اپنی آخری ہچکی سے چند سال کی دوری پر رہ گئے ہیں اور ناسا کے ماہرین اس کے لیے تیار ہیں۔

1977ء میں 15 دن کی وقفوں سے دونوں خلائی جہازوں کو کیپ کناورل، امریکا سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اب تک انہیں زمین سے تاریخی دوری پر پہنچنے والے خلائی جہازوں کا اعزاز حاصل ہے۔ اہل زمین نے پہلی مرتبہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کو قریب سے دیکھا اور قیمتی معلومات فراہم کی تھیں۔

اب وجہ یہ ہے کہ ایٹمی ایندھن پلوٹونیئم سے بجلی بنانے والا نظام اس قدرانحطاط پذیر ہوچکا ہے کہ اب جہازوں کے برقی آلات کو چلانا ممکن نہیں رہا اور غالب خیال ہے کہ 2025ء کے بعد یہ مکمل خاموش ہوجائے گا اور خود ناسا کے ماہرین اس کے لیے تیارہیں۔
اگرچہ اسے صرف پانچ برس تک کے لیے کارآمد بنایا گیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اب 44 سال بعد بھی یہ نظامِ شمسی کے کنارے سے سگنل اور تصاویر بھیج رہا ہے۔

اس ضمن میں ناسا کے ماہر ڈاکٹر رالف میک نٹ نے بتایا کہ یہ اپنی عمر سے 10 گنا زائد عرصے تک کام کرتا رہا ہے۔ اب اس کے نظام ایک ایک کرکے بند کیے جارہے ہیں۔ یعنی پر وائیجراول کے چار بڑے آلات میں سے ایک ہی چل رہا ہے اور وائجر دوم کے پانچ آلات ہی کارآمد رہ گئے ہیں۔

وائیجر اول 36 برس بعد نظامِ شمسی کے مشہور شمسی ہالے یعنی ہیلیواسفیئر سے گزرا اور تباہ ہوئے بغیر ہماری معلومات میں شاندار اضافہ کرگیا۔

وائیجر اول اس وقت زمین سے 23 ارب 30 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس دوری پر اس کا ایک سگنل زمین تک 20 گھنٹوں بعد پہنچتا ہے۔ وائیجر دوم اس وقت 12 ارب میل کے فاصلے پر ہے اور اس کے سگنل زمین تک 18 گھنٹے میں پہنچتے ہیں۔

ناسا کے مطابق ہم نے دونوں خلائی جہازوں کے کیمرے بند کردیئے ہیں کیونکہ تصاویر لینے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک انتہائی تاریک مقام پر موجود ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »