وینس پرزندگی کے اثرات موجود ہیں، سائنسدان

نیویارک: زمین کا پڑوسی سیارہ طویل عرصے تک حیات کیلئے غیرموزوں قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن اب اس کے گہرے بادلوں میں ایک اہم گیس کے آثار ملے ہیں جو زندگی کی علامت ہوسکتے ہیں۔

یہ سیارہ اتنا گرم ہے کہ اسے ہاٹ ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور اس پر تیزابی بارش ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ہوائی اور چلی میں واقع دوربینوں نے زہرہ یعنی وینس کے گہرے بادلوں میں فاسفین گیس کے آثار دیکھے ہیں جس سے خیال ہے کہ وہاں عجیب و غریب خردنامئے موجود ہوسکتے ہیں۔ فاسفین گیس یا تو تجربہ گاہ میں بنائی جاتی ہے یا پھر بعض جانوروں اور خردنامیوں کا حصہ بھی ہوتی ہے۔ بعض سائنسداں اسے جانداروں کے فضلے کا حصہ کہتے ہیں لیکن دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔

فاسفین گیس کا مالیکیول فاسفورس کا ایک اور ہائیڈروجن کے تین ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ہے اگرچہ یہ ایک بہت اہم دریافت ہے لیکن اسےکسی سیارے پر زندگی کی موجودگی کی حتمی شہادت نہیں کہا جاسکتا ۔ ماہرینِ فلکیات ہمارے نظامِ شمسی اور اس سے باہر زندگی کی تلاش کیلئے ایسے کیمیائی اجزا کو ڈھونڈتے ہیں جو زندگی سے وابستہ ہوتے ہیں اور انہیں بایوسگنیچرز کہا جاتا ہے۔

فاسفین گیس بعض تالابوں کے فرش اور کچھ جانوروں کی آنتوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس تحقیق کی شریک مصنفہ سارہ سیگر کہتی ہیں کہ ہم نے آتش فشانی عمل، بجلی کڑکنے اور چھوٹے شہابیوں سمیت تمام باتوں پرغور کرلیا لیکن ان میں سے کوئی بھی عمل فاسفین کی اتنی بڑی مقدار نہیں بناسکتا۔ واضح رہے کہ سیارہ زہرہ پر پانی ناپید ہے اور سطح کا درجہ حرارت 425 درجے سینٹی گریڈ تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نظامِ شمسی کا جہنم بھی کہا جاتا ہے۔

سیارہ زہرہ سے 50 کلومیٹر کی بلندی پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بادلوں کی موٹٰی چادر ہے جس میں شاید پانی کے قطرے بھی موجود ہوسکتےہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.