کائنات میں زمین جیسا سیارہ دریافت

واشنگٹن: ماہرینِ فلکیات نے ہماری زمین سے 186 نوری سال کے فاصلے پر ایک سیارہ ایگزوپلانیٹ دریافت کیا ہے جو اپنے سورج کے گرد صرف 3.14 دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ اس طرح یہ اپنے ستارے کے گرد بہت تیزی سے گھومتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے پائی والے سیارے کا نام دیا گیا ہے تاہم اس کا نام کے ٹو 315 بی رکھا گیا ہے۔

پائی ایک ریاضیاتی مستقل ہے جو کسی دائرے کے قطر اور اس کے گھیر کے درمیان تناست کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی قدر 3.14 ہے ۔ ماہرین نے اس سیارے کو پائی زمین بھی کہا ہے۔ لیکن کئی برس کے مشاہدے کے بعد ہی ماہرین نے اس کی تصدیق کی ہے۔ 2017 میں کیپلر خلائی دوربین نے اسے دریافت کیا تھا اور تب سے فلکیات دانوں نے مسلسل اس پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ یہ سیارہ ایک ایسے بونے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے جس کی جسامت ہمارے سورج سے صرف 20 فیصد ہے۔ کیپلر نے اس کے 20 عبور یا ٹرانزٹ کو بھی دیکھا ہے۔

اس کے بعد فلکیات دانوں کی دوسری ٹیموں نے بھی اس پر غور کیا جو سب کے سب بونے ستاروں کے گرد سیاروں پر غور کررہے تھے۔ اس طرح اسیپیکیولوس دوربینوں کے ذریعے فروری، مارچ اور مئی میں مشاہدات کئے گئے۔ اس طرح سیارے کی مزید تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ محتاط اندازے کے مطابق اس سیارے کی جسامت ہماری زمین سے 95 فیصد تک ہے۔ شاید یہ گیس کی بجائے ایک پتھریلا سیارہ ہے۔ ہمارے نظامِ شمسی میں زمین، زہرہک، عطارد اور مریخ ایسے سیاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.