Daily Taqat

کائنات میں کروڑوں کہکشاؤں کے جھرمٹ بھی گردش میں ہیں

جرمنی: ہماری کائنات بہت عجیب وغریب ہے؛ اور اب ایک نئی دلچسپ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں انتہائی بڑی ساختیں بھی زیرِ گردش ہیں جن میں بیک وقت کروڑوں کہکشاؤں کے مجموعے، جھرمٹ اور ریشے (فلامنٹس) تک شامل ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہماری کائنات میں انتہائی بڑے اجسام یعنی کروڑوں کہکشاؤں کے مجموعے بھی زیرِ گردش ہیں۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ شاید اتنے بڑے اجسام گردش نہیں کرتے لیکن اب ثابت ہوا ہے کہ کہکشانی ریشے (فلامنٹس)، کہکشاؤں کے جھرمٹ یعنی کلسٹرز اور جھرمٹوں کے جھرمٹ یعنی ’’سپرکلسٹرز‘‘ بھی اپنے محور پر گھوم رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، انتہائی وسعتوں پر پھیلی ہوئی کہکشاؤں کے جال ہمارے تصور سے بھی وسیع ہوتے ہیں، تاہم وہ بھی زیرِ گردش ہیں۔ اس تحقیق سے کہکشاؤں کی ساخت اور خود کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔ تاہم اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پوری کائنات ہی زیرِ گردش ہے۔

لیکن کہکشاؤں کے یہ مجموعے آخر کیوں اور کس طرح گھوم رہے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو ایک عرصےسے بالخصوص فلکی طبیعیات دانوں کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ’نہ صرف کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹ گھوم رہے ہیں بلکہ ان میں موجود ہر کہکشاں بھی زیرِ گردش ہے۔ پھر ہر کہکشاں کا ایک ایک ستارہ بھی گھماؤ رکھتا ہے۔ اس کےبعد ہر ستارے کے گرد سیارے بھی محوِ گردش ہیں۔

ہمارا نظامِ شمسی گھوم رہا ہے، زمین بھی زیرِ گردش ہے اور خود اس کا چاند بھی بے چینی سے چکر کاٹ رہا ہے۔ یعنی بہت حد تک پوری کائنات ہی زیرِ گردش ہے،‘ جرمنی میں واقع لائبنزانسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس سے وابستہ نوم لائبسکنڈ نے کہا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اس عظیم گردش کی وجہ نہیں معلوم اور نہ ہی یہ پتا چل سکا کہ کہیں گردش رکی ہوئی ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے کی تحقیق بتاتی ہے کہ شاید کائناتی گھماؤ کہکشاؤں کے مجموعے پر تھم جاتا ہے لیکن پروفیسر نوم نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ ایسا نہیں، بلکہ لاکھوں کروڑوں کہکشاؤں کے جھرمٹ بھی گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے سلون ڈجیٹل اسکائی سروے کے ذریعے بہت بڑے جھرمٹوں کا جائزہ لیا ہے جو مل کر کائناتی جالا (کوسمک ویب) بناتی ہیں۔ یہ جالے اتنے بڑے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں نوری سال پر پھیلے ہوئے ہیں اور مسلسل گردش کررہے ہیں۔

لیکن اتنے بڑے اجسام کی گردش کا انکشاف بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ لائبنز کے سائنسدانوں نے کہکشاؤں کے زمین سے بڑھتی ہوئی قربت یا دوری کو نوٹ کیا ہے۔ یعنی کسی فِلامنٹ کے ایک طرف موجود کہکشائیں ہم سے دور جارہی ہیں تو اس کے دوسرے مخالف کنارے پر موجود کہکشائیں ہمارے قریب آرہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پورا فلامنٹ ہی گھوم رہا ہے۔ اس کی رفتار بھی حیرت انگیز ہے یعنی 100 کلومیٹر فی سیکنڈ!

تاہم جھرمٹوں کے مرکز میں موجود کہکشائیں بھی پیچیدہ انداز میں گھوم رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »