اوزون پرت تیزی سے بحال ہورہی ہے، رپورٹ

زمین والوں اور خود زمین کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارے سروں پر حفاظتی چھتری یعنی اوزون کی چادر تیزی کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے، توقع ہے کہ 2060ء تک اس تہہ میں موجود سوراخ مکمل طور پر بھر جائے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے اوزون کو تباہ کرنے والے زمینی کیمیکلز پر تیس سال قبل مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ان میں سرِ فہرست کلورو فلورو کاربنز تھے جو فضا میں جاکر اوزون کو تباہ کر رہے تھے۔ اس ضمن میں ایک رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، جس کی تائید خود اقوامِ متحدہ کے مجاز اداروں نے بھی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے 1989ء میں مانٹریال پروٹوکول کے تحت اوزون دشمن مصنوعات اور کیمیکلز پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور اس کے بعد اوزون کی سطح بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تاہم اس کی مکمل بحالی میں ابھی کچھ وقت درکار ہے اور 2060ء تک اوزون کی چاک چادر گویا مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔

زمین سے 20 سے 30 کلومیٹر کی بلندی پر واقع اوزون کی سطح سورج سے آنے والی خطرناک بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ شعاعوں) کو جذب کرتی ہے اور اگر یہ شعاعیں براہِ راست زمین تک پہنچ جائیں تو سرطان سمیت کئی امراض اور پریشانیوں کی وجہ بن سکتی ہیں۔ 2018ء کی سائنسی رپورٹ کے مطابق 2000ء کے بعد سے ہر سال اوزون کی ایک سے تین فیصد مقدار فی سال بحال ہوتی جارہی ہے، اور اب کئی مقامات پر اوزون بہتر ہوچکی ہے اور اس کے سوراخ بھر رہے ہیں۔

اگر مثبت معاملات اسی رفتار سے چلتے رہے تو سائنس دانوں کو امید ہے کہ 2030ء تک شمالی نصف کرے میں اوزون کی سطح 1980ء کی سطح تک آجائے گی، جبکہ جنوبی قطب (ساؤتھ پول) کے اوپر موجود اوزون 2060ء تک بحال ہوجائے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.