Daily Taqat

مسلمانوں کے ہزاروں قدیم مقبروں میں ’’پراسرار کائناتی ترتیب‘‘ کا انکشاف

روم: مشرقی سوڈان کے علاقے ’کسنا‘ میں 4100 مربع کلومیٹر پر سیکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف ہوا ہے لیکن سائنسدان نہیں جانتے کہ آخر یہ مقبرے اس ترتیب سے کیوں بنائے گئے تھے۔

دس ہزار سے زیادہ کی تعداد میں یہ چھوٹے بڑے مقبرے کم از کم پانچ سو سال پرانے ہیں جو ’کسنا‘ میں ایک بہت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

ان مقبروں میں دو طرح کی ساخت زیادہ نمایاں ہے: ٹیومیولس (tumulus) اور قبہ (qubba)۔ ٹیومیولس ایک عام کچی قبر جیسی ساخت ہوتی ہے جو ارد گرد کی سطح زمین سے کچھ بلند ہوتی ہے جبکہ ’’قبہ‘‘ میں مقبرے کی چاردیواری اور چھت بھی ہوتی ہے جس پر گنبد موجود ہوتا ہے۔

اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ان ہزاروں مقبروں میں بظاہر کوئی ترتیب نہیں لیکن اٹلی کی نیپولی یونیورسٹی میں افریقہ اور بحیرہ روم کے آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر اسٹیفانو کونسٹانزو کو چند سال پہلے شبہ ہوا کہ شاید اس بے ترتیبی میں بھی کوئی ترتیب ہے۔

زمین پر نظر رکھنے والے طاقتور مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تفصیلی تصویروں کی مدد سے انہوں نے اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے مقبروں کا مجموعی نقشہ مرتب کیا جس میں ہر نقطہ ایک مقبرے کو ظاہر کرتا تھا۔ یہیں سے ان مقبروں میں ترتیب کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگیں۔

اپنے برطانوی اور سوڈانی تحقیق کار ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے ایک خاص تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جسے ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس سے پہلے تک یہ تکنیک صرف ستاروں اور کہکشاؤں کے جھرمٹوں میں ترتیب کا پتا لگانے میں ہی استعمال ہوتی رہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ جب اسے آثارِ قدیمہ کے شعبے میں آزمایا گیا۔

’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ استعمال کرنے پر ہونے والا انکشاف خود ان ماہرین کےلیے بھی حیرت انگیز تھا: تمام مقبروں کی ترتیب کہکشانی جھرمٹوں جیسی تھی!

یعنی درمیان والے مقبروں کا ایک جھرمٹ اور اس کے گرد پھیلے ہوئے مقبروں کے مزید جھرمٹ جنہیں بعد کے زمانوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

اس ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درمیان والے مقبرے غالباً زیادہ اہم اور ’’مقدس‘‘ ہستیوں کے ہیں جبکہ ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے چھوٹے مقبرے، ان ہستیوں سے عقیدت رکھنے والوں کے ہیں۔

اس طرح یہ ترتیب بالکل ویسی ہوگئی ہے جیسی کسی کہکشاں میں ستاروں کے جھرمٹوں کی، یا پھر کہکشاؤں کے جھرمٹوں میں ہوتی ہے (جو اگرچہ ستاروں کے مقابلے میں کروڑوں گنا وسیع علاقے میں پھیلے ہوتے ہیں لیکن یکساں کائناتی قوانین کے تابع ہوتے ہیں)۔

اتنا سب کچھ معلوم ہوجانے کے باوجود، ماہرین یہ نہیں جان پائے ہیں کہ آخر یہ مقبرے اس پراسرار کائناتی ترتیب ہی میں کیوں تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جو شاید ایک طویل عرصے میں مکمل ہوسکے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »