کیا ماﺅنٹ ایٹنا آتش فشاں ہے؟

روم : اٹلی کی کٹانیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے طویل عرصے بعد اعلان کیا ہے کہ دنیا جس ماﺅنٹ ایٹنا کو آتش فشاں سمجھ رہی ہے وہ آتش فشاں ہوہی نہ بلکہ کوئی اور چیزہو اور امکانی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ گرم پانی کا ایک بہت بڑا چشمہ ہے اسکے علاوہ اورکچھ نہیں۔ اب تک کی حاصل معلومات کے مطابق ماﺅنٹ ایٹنا ہر سال 7کروڑ ٹن لاوا خارج کرتا ہے اور اسی دوران 70لاکھ ٹن بھاپ Co2اور سلفر ڈائی آکسائڈ بھی پیدا کرتا ہے ۔ پروفیسر فرلیٹو کا کہناہے کہ ان شواہد کی بناءپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماﺅنٹ ایٹنا کی نوعیت حقیقی آتش فشاں کی ہو ہی نہ اور بات صرف یہ ہو کہ یہاں کا پانی انتہائی گرم ہوتا ہے اور گرم چشمے ہی چاروں جانب ابلتے رہتے ہیں جنہیں لاوا سمجھ کر دنیا اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہے۔ واضح ہو کہ ماﺅنٹ ایٹنا سے اٹھنے والے فشار کے نتیجے میں جزیرہ سسلی تک لاکھوں ٹن گردو غبار پہنچ جاتا ہے جس میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ شامل ہے۔پروفیسر فرلیٹوکی یہ رپورٹ نیو سائنٹسٹ نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.