اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

برازیل سے860 وولٹ کا کرنٹ مارنے والی مچھلی دریافت

واشنگٹن: سائنسی تحقیق کے لیے ایمازون کی برقی اِیل یا بام مچھلی کے نمونے حاصل کرنے کے دوران برازیل کے سائنسدان کارلوس ڈیوڈ ڈی سانٹا کو ندیوں اور دریاؤں میں اترتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا پڑا۔

اگرچہ وہ ہمیشہ ربڑ کے دستانے پہنے ہوتے تھے پھر بھی کچھ جھٹکے لگ ہی جاتے تھے۔ مگر اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی پانچ برس کی تحقیق کے دوران انھوں نے برقی بام مچھلی یا الیکٹرِک ایل کی دو نئی اقسام دریافت کر لیں۔ ان میں سے ایک 860 وولٹ کا کرنٹ لگانے کی طاقت رکھتی ہے جو کسی بھی جاندار میں سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

الیکٹروفورس وولٹائے ایمازون میں دریافت ہونے والی بام مچھلی کو دو نئی اقسام میں سے ایک ہے

اس سے قبل کا برقی مچھلی میں کرنٹ ریکارڈ 650 وولٹ ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم سمِتھسونین انسٹی ٹیوٹ کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ایک سائنسدان نے اس دریافت کے بارے میں نیچر کمیونیکیشنز میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔ پوراق مچھلی جنوبی امریکا میں رہتی ہے اور اس کی لمبائی 2.5 میٹر تک ہو سکتی۔ بجلی کا کرنٹ پیدا کرنے والی تقریباً 250 مچھلیاں ہیں جو ہلکا کرنٹ پیدا کرنے کی حامل ہیں۔ یہ کرنٹ وہ راستہ ڈھونڈنے اور آپس میں گفتگو کرنے کے لیے کام میں لاتی ہیں۔

صرف پوراق وہ مچھلی ہے جو انتہائی طاقتور کرنٹ پیدا کر سکتی ہے اور اسے وہ دفاع اور شکار کرنے کے لیے بروئے کار لاتی ہے۔ یہ بجلی اس کے جسم میں موجود تین اعضا سے پیدا ہوتی ہے۔ اب تک خیال تھا کہ پوراق کی ایک ہی قسم ہے جس کا نام الیکٹروفورس الیکٹرِکس ہے اور جس کا ذکر 1766 میں سویڈن کے فطرتداں کارل لِنیوس نے کیا تھا۔ مگر اب دو نئی اقسام دریافت ہو گئی ہیں۔ ان میں خارج ہونے والے کرنٹ کی طاقت اور ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر فرق کیا جا سکتا ہے۔

سانٹانا کا کہنا ہے کہ 250 برس بعد دو نئی انواع کی دریافت سے ایمازون میں موجود حیاتیاتی تنوع کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے اور صرف ایمازون ہی نہیں پوری دنیا میں پائی جانے والی حیاتیات گوناگونی کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ اور ان انواع کی حیاتیات کے بارے میں تو ہمار علم بالکل ہی کم ہے۔ اگر ہم نے اسے تباہی سے نہ بچایا تو یہ بہت بڑا نقصان ہو گا۔ اس حیاتیاتی تنوع کے بارے میں تحقیق ناگزیر ہے۔ بہت سی ادویات جو ہم تجارتی پیمانے پر بناتے ہیں وہ ان انواع پر تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جینیاتی خزانہ ہے۔

دوسری نئی دریافت ہونے والی نوع الیکٹروفورس ورائے ہے

اگرچہ الیکٹروفورس وولٹائے 860 وولٹ کے برابر بجلی کا جھٹکا لگا سکتی ہے جو گھروں میں 220 وولٹ والی بجلی کا چار گنا ہے مگر یہ انسان کے لیے جان لیوا نہیں ہے کیونکہ اس میں برقی رو یا کرنٹ کا بہاؤ کم ہوتا ہے۔ اس سے انسان مر نہیں سکتا۔ اس مقابلے میں گھروں کی بجلی کی رو مستقل ہوتی ہے۔ الیکٹروفورس وولٹائے میں ایک یا دو سیکنڈ کے بعد کرنٹ کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اس خود کو پھر سے چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انھیں خود بھی ایک سے زیادہ مرتبہ اِیل نے برقی جھٹکا لگایا ہے۔

وہ کہتے ہیں یقیناً تکلیف تو ہوتی ہے۔ آپ پٹھوں میں ایک طرح کی اینٹھن محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ آپ دریا کے اندر ان مچھلوں کے گھیرے میں ہیں تو پھر صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ جب ایک مچھلی کرنٹ چھوڑتی ہے تو تمام کی تمام ایسا ہی کرتی ہیں جس سے انسان کا دل کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ مگر میں نے نہیں سنا کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ گزشتہ خیال کے برعکس، یہ نوع تنہائی پسند نہیں ہے اور 10 مچھلوں کے گروہ میں رہ سکتی ہے۔

الیکٹروفورس وولٹائے کا نام بجلی کی بیٹری کے موجد اور ماہر طبیعیات الیسانڈرو وولٹائے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ نئی دریافت ہونے والی دوسری نوع، الیکٹروفورس ویرائے کو 2016 میں انتقال کر جانے والے ماہرِ حیاتیات اور سمِتھسونین محقق رچرڈ پی ویری کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ اگرچہ مچھلی کی ان نئی دریافت شدہ انواع کو سردست معدومیت کا کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم ایمازن میں ماحول کی صورتحال کے پیش نظر ان کی نسل بھی مٹ جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.