Daily Taqat

چینی خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن میں پہنچا دیا گیا

بیجنگ: شینژو 12 انسان بردار خلائی جہاز نے آج کامیاب اُڑان بھرنے کے سات گھنٹے بعد 3 چینی خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن ’’تیانہے‘‘ میں پہنچا دیا ہے۔ اس مرحلے کو چینی خلائی اسٹیشن کی تعمیر میں ایک اور بڑی پیش رفت بھی قرار دیا جارہا ہے۔

خبروں کے مطابق، آج صبح 9 بج کر 22 منٹ پر چین کا شینژو 12 انسان بردار خلائی جہاز تین خلا نوردوں کے ساتھ ’’جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر‘‘ سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ اس کے بعد یہ خلائی جہاز طے شدہ مدار میں داخل ہوا اور تین خلا نوردوں کو سے خلا میں لے گیا۔

شینژو 12 انسان بردار خلائی جہاز چین میں اب تک تیار ہونے والا، اعلی ترین معیار والا انسان بردار خلائی جہاز ہے۔ یہ مداروی (آربٹر) ماڈیول، واپسی کے (ریٹرن) ماڈیول اور پروپلشن ماڈیول پر مشتمل ہے جبکہ جہاز میں مجموعی طور پر 14 ذیلی نظام ہیں۔

موجودہ خلائی مشن، خلائی اسٹیشن کی کلیدی ٹیکنالوجی کے تصدیقی مرحلے میں چوتھا مشن ہے اور خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے مرحلے میں پہلا انسان بردار مشن بھی ہے۔ تینوں خلا نورد تین ماہ تک خلائی اسٹیشن میں مقیم رہیں گے اور اس دوران اسٹیشن کے باہر تنصیبات کی مرمت، پرزہ جات کی تبدیلی اور سائنس ایپلی کیشن لوڈنگ جیسے متعدد کام انجام دیں گے۔

ویب سائٹ ’’اسپیس ڈاٹ کام‘‘ کے مطابق، چینی خلائی اسٹیشن میں تین ماہ تک قیام کرنے والے تینوں خلا نورد (نی ہائیشینگ، لوئی بومنگ اور تانگ ہونگبو) مرد ہیں۔ چینی خلائی اسٹیشن ’’تیانہے‘‘ کی لمبائی 54 فٹ ہے جسے چین مکمل طور پر اپنے وسائل سے تعمیر کررہا ہے۔

متوقع طور پر اس کی تعمیر 2022 کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی اور اس کےلیے مزید آٹھ خلائی پروازیں بھیجی جائیں گی۔ اپنی تکمیل کے بعد یہ چینی خلائی اسٹیشن کم از کم دس سال تک کارآمد رہے گا۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ چینی خلا نوردوں کو ’’تائیکوناٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔

خلائی اسٹیشن کا منصوبہ ایک وسیع تر چینی خلائی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت چاند تک انسان بردار خلائی مشن، مریخ کی تسخیر، مختلف مصنوعی سیارچے اور اس نوعیت کے دوسرے اہم منصوبے شامل ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »