سائنسدانوں نے ایگزوپلانیٹ کا براراست مشاہد کرلیا

لندن: فلکیاتی کی دنیا میں ہر ماہ نظام شمسی سے باہر کسی نہ کسی سیارے ایگزوپلانیٹ کی خبریں آتی رہتی ہیں جن کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جاتا بلکہ ثقلی امواج یا اس کے اثر سے سیارے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ تاہم اب بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ کسی سیارے کو براہِ راست دیکھا ہے۔

یہ سیارہ زمین سے 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے جو گیسی ستارے، بی ٹا پکٹورِس سی کےگرد گھوم رہا ہے۔ یہ ستارہ بہت جوان اور سرگرم ہے جس کی عمر صرف 23 ملین سال ہے۔ اس کے گرد گیس اور گردوغبار اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ کئی سیارے بھی موجود ہیں۔ اب تک ایسے دوسیارے دریافت ہوچکے ہیں۔ ماہرین نے پہلی مرتبہ براہِ راست اس کی روشنی اور کمیت بھی نوٹ کی ہے۔ اپنی جوان عمری کی وجہ سے اس پر تحقیق کرکے سیاروں کی تشکیل کو بہت حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اب تک کسی بھی ایگزوپلانیٹ کو براہِ راست نہیں دیکھا گیا ہے تاہم اب جدید ٹٰیکنالوجی کی مدد سے کسی سیارے کو نوٹ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بالراست طریقے سے اسے کئی برس قبل دریافت تو کرلیا گیا تھا لیکن اس کا براہِ راست نظارہ نہیں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ایگزوپلانیٹ ثقلی اثر یا ڈگمگاہٹ کے تحت ہی دیکھے بلکہ محسوس کئے جاتے رہے ہیں۔

فرانس کی ماہرِ فلکیات اینے میری لیگرینج کے مطابق ستارے کے گرد ایک سیارہ 16 برس قبل دریافت تو ہوچکا تھا لیکن حال ہی میں ایک اور سیارہ اس کے پاس دیکھا گیا جس کی تصدیق ثقلی اثر کے تحت کی گئی تھی اور اس سیارے کو بی ٹا پکٹورس سی کا نام دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایکسوگریویٹی ٹیم کے برطانوی رکن میتھیاس نوواک نے پہلی مرتبہ بی ٹا پکٹورس سی کا مشاہدہ کیا اور تصاویر اتاری ہیں۔ یہ تحقیق دو اکتوبر کو ایسٹرونومی اور ایسٹروفزکس جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.