Daily Taqat

ایسا مادہ دریافت جو کسی درجہ حرارت پر نہیں پگھلتا

برسبین: اسکول کی سائنسی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی بھی چیز گرم کرنے پر پھیلتی ہے اور ٹھنڈی کرنے پر سکڑتی ہے، لیکن یہ مادّہ اس اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

آسٹریلوی انجینئروں اور سائنسدانوں نے اتفاقی طور پر ایک ایسا حیرت انگیز مادّہ دریافت کرلیا ہے جو شدید ٹھنڈک سے لے کر انتہائی شدید گرمی تک اپنی جسامت تبدیل نہیں ہونے دیتا۔ اس مادّے کا نام بہت ہی عجیب و غریب ہے البتہ یہ اسکینڈیئم، ایلومینم، ٹنگسٹن اور آکسیجن پر مشتمل ہے۔

یہ عجیب و غریب مادّہ منفی 269 ڈگری سینٹی گریڈ جیسے شدید سرد درجہ حرارت سے لے کر 1127 ڈگری سینٹی گریڈ جیسے انتہائی گرم درجہ حرارت تک پر بھی اپنا حجم تبدیل نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ خام لوہا تقریباً 1100 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے لیکن اس درجہ حرارت پر یہ مادّہ ٹس سے مس بھی نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر نیرج شرما اور ان کے ساتھی کچھ نئی قسم کی سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں پر تحقیق میں مصروف تھے۔ اسی تحقیق میں غیر متوقع طور پر انہوں نے یہ مادّہ دریافت کرلیا۔ ہوائی جہاز اور خلائی جہاز سے لے کر حساس قسم کے طبّی آلات تک، اس نئے مادّے کےلیے اطلاق کا وسیع میدان ہے۔

اب تک یہ تو واضح نہیں ہوسکا کہ یہ نودریافتہ مادّہ درجہ حرارت میں اتنی زیادہ تبدیلی پر بھی اپنا حجم تبدیل کیوں نہیں کرتا، البتہ تجربات کے دوران اس مادّے نے درجہ حرارت میں تقریباً 1400 ڈگری جتنی تبدیلی پر بھی اپنا حجم برقرار رکھتے ہوئے ماہرین کو اب تک حیران کیا ہوا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »