اہم خبرِیں
انوپم کھیر کا خاندان بھی کورونا وائرس کا شکار فیصل واوڈا نے کے الیکٹرک سے متعلق بلاول بھٹو کی رپورٹ کو کرپشن... چین میں طوفانی بارشوں کے باعث بدترین سیلابی صورتحال پیدا گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان ’ارطغرل غازی‘ کی حلیمہ سلطان کو کیو موبائل نے اشتہار کیلئے منت... احسن اقبال کی نیب کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی د... ہوٹل کی7 ویں منزل سے گرنے والے شخص کی بالکونی میں دوسرے شخص سے... اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن پب جی گیم پر پابندی کےخلاف درخو... افغانستان سے پاکستان چرس کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟ لاہور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جا... حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت، سپریم کورٹ دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بن قاسم پاور پلانٹ میں تکنیکی خرابی کا دعویٰ ،کے الیکٹرک 45 سالہ شخص کی 6 سالہ بچی سے زیادتی شوگر ملز ایسوسی ایشن سے جہانگیر ترین گروپ کا خاتمہ کووڈ-19 کی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دینے پرپاکستان... سی ٹی ڈی کی کاروائی پر کالعدم تنظیم کے تین دہشت گرد گرفتار پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری یواے ای کا مریخ پرروانہ ہونیوالا مشن ملتوی

شہاب ثاقب: اپنے گھر کی چھت سے شہابیوں کی بارش دیکھنے کا سالانہ موقع آج رات

شہاب ثاقب، آسمان، فلکیات،

کیا آپ کو کبھی ایسا تجربہ رہا ہے کہ اندھیری رات میں آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اچانک کچھ سیکنڈ کے لیے ایک روشن لکیر بنتی ہوئی نظر آئی ہو؟

عام طور پر ہم انھیں ٹوٹا ہوا تارا کہتے ہیں لیکن اب تقریباً سبھی

لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ستارے ٹوٹا نہیں کرتے۔

تو پھر یہ ’ٹوٹے ہوئے تارے‘ آخر کیا چیز ہوتے ہیں؟

اس سے پہلے کہ ہم آپ کو ان تفصیلات سے آگاہ کریں، آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ آج رات سے لے کر اتوار کی صبح تک آپ کے پاس عام دنوں سے ہٹ کر کہیں زیادہ ٹوٹے ہوئے تارے دیکھنے کا موقع آنے والا ہے۔

یہ کیا ہوتے ہیں اور آپ انھیں کب اور کیسے دیکھ سکتے ہیں، اس حوالے سے چند دلچسپ حقائق پیش ہیں۔

ٹوٹے ہوئے تارے یا شہابیے کیا ہوتے ہیں؟

انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرنے والے شہابیے جب کرہ ارض کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی رفتار دو لاکھ 60 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔

اس رفتار کے باعث کے وہ اپنے پیچھے ’ٹوٹے ہوئے تاروں‘ کی ایک لڑی چھوڑتے جاتے ہیں۔

فلکیاتی کلینڈر میں برج جوزا (جیمینائی) سے نکلتے ہوئے محسوس ہونے والے جیمینیڈ شہابیوں کی بارش یا میٹیئر شاور ہر سال ہوتی ہے۔ یہ دسمبر کے وسط میں ہوتی ہے جب ہماری زمین اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے ایک سیارچے 3200 فائیتھون کے چھوڑے گئے ملبے سے گزرتی ہے۔

جب یہ عروج پر ہوں تو صاف آسمان والی اندھیری راتوں میں آپ ایک گھنٹے میں 120 ٹوٹتے ہوئے تارے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی رفتار دوسروں کے مقابلے میں نسبتاً کم تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار کلومیٹر تک ہوتی ہے، لیکن اس سے انھیں دیکھنے کا لطف بڑھ جاتا ہے۔

آپ جیمینیڈ شہابیے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

شہاب ثاقب، آسمان، فلکیات،

امیریکن میٹیئر سوسائٹی کی پیشگوئی ہے کہ فی الوقت جاری جیمینیڈ شہابیوں کی یہ بارش سنیچر 14 دسمبر کو آپ کے مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے اپنے عروج پر ہوگی۔

اور بظاہر جس مقام سے یہ نکلتے ہوئے محسوس ہوں گے، وہ آسمان میں کافی بلندی پر ہوگا۔

تو اگر آپ انھیں دیکھنا چاہیں، تو اس کے لیے

شہر سے دور کسی اندھیری جگہ چلے جائیں

اپنی پشت کے بل لیٹ جائیں

اپنی آنکھوں کو اندھیرے کا عادی بنانے کے لیے 30 سے 40 منٹ کا وقت دیں

افسوس کی بات یہ ہے کہ تقریباً پورا چاند اس مرتبہ زیادہ تر جیمینیڈ شہابیوں کی روشنی کو دھندلا دے گا پر اگر آپ کے علاقے میں کچھ اندھیرا ہو تو آپ ایک گھنٹے میں تقریباً 20 شہابیے دیکھ سکتے ہیں۔

اگر سنیچر کو آپ کے پاس موسم ابر آلود ہے، تب بھی آپ جمعے کی رات کو 10 بجے سے ہی اور اتوار کی صبح طلوعِ آفتاب سے پہلے تک انھیں دیکھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد یہ اگلے چند دن میں بالکل ختم ہوجائیں گے۔

میٹیئر، میٹیئرائٹ، میٹیئرائڈ، ایسٹیرائڈ اور کومیٹ کے درمیان کیا فرق ہے؟

شہاب ثاقب، آسمان، فلکیات،شہابیوں پر ناسا کے ماہر اور بلاگر بِل کُک ان سب کے درمیان فرق بتاتے ہیں۔

میٹیئر درحقیقت وہ طویل، روشن لکیر ہوتی ہے جو کسی خلائی پتھر کے پیچھے اس وقت نظر آتی ہے جب وہ زمین کی فضا میں داخل ہونے پر گرم ہو کر پگھل جاتا ہے۔

میٹیئرائڈ زمین کی فضا میں داخل ہونے والے پتھروں کو کہا جاتا ہے اور یہ کسی ایسٹیرائڈ (شہابِ ثاقب) کے پتھر یا کسی کومیٹ (دمدار ستارے) کی برف کا ٹکڑا ہوسکتے ہیں۔

میٹیئرائٹ یہ تب کہلاتے ہیں اگر یہ جل کر ختم ہونے سے بچ جائیں اور زمین پر گر جائیں۔

ایسٹیرائڈ پتھر کی وہ بڑی چٹانیں ہوتی ہیں جو خلا میں تیرتی ہوئی سورج کے گرد چکر لگاتی ہیں۔

کومیٹ بھی ایسٹیرائڈز کی طرح خلا میں تیرتے ہوئے سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں مگر یہ پتھر نہیں بلکہ برف اور مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔

میٹیئرائڈ زمین سے کتنی باقاعدگی سے ٹکراتے ہیں؟

شہاب ثاقب، آسمان، فلکیات،

ناسا کے مطابق ہر روز زمین پر 100 سے 300 ٹن کے درمیان خلائی مٹی اور پتھروں کی بارش ہوتی ہے مگر ان کا حجم کسی ریت کے ذرے سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔

اور ناسا کا اندازہ ہے کہ ان میں سے زمین پر تقریباً 44 ٹن مواد گرتا ہے۔

سال میں تقریباً ایک مرتبہ گاڑی کے سائز جتنا ایک ایسٹیرائڈ زمین کی فضا سے ٹکراتا ہے جس سے آگ کا ایک زبردست گولہ پیدا ہوتا ہے مگر یہ زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی جل کر ختم ہوجاتا ہے۔

تقریباً ہر 2000 سال میں کسی فُٹبال کے میدان جتنا میٹیئرائڈ زمین سے ٹکراتا ہے اور اچھا خاصہ نقصان پہنچاتا ہے۔

شہابیوں کی بارش یا میٹیئر شاور کیا ہوتا ہے؟

شہاب ثاقب، آسمان، فلکیات،

مندرجہ بالا کسی بھی میٹیئر شاور کے دوران آسمان پر نظر آنے والے شہابیوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوجاتا ہے۔

ہر سال جب زمین خلا میں موجود ایسٹیرائڈز یا کومیٹس کے چھوڑے گئے ملبے کے درمیان سے گزرتی ہے تو ہمیں آسمان پر یہ شہابیے نظر آتے ہیں۔

شہابیوں کی ان بارشوں میں سب سے مشہور پرسیڈز ہیں جو ہر سال اگست میں اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ پرسیڈز کے تمام شہابیے ایک دمدار ستارے سوئفٹ ٹٹل کے ننھے مُنے ٹکڑے ہوتے ہیں۔

اور مشہور دمدار ستارہ ہیلی شہابیوں کی دو بارشوں ایٹا ایکوارِڈز اور اورائنِڈز کا سبب بنتا ہے۔

مگر دسمبر کے وسط میں ہونے والی جیمینڈز کی برسات میں سب سے زیادہ شہابیے نظر آتے ہیں جن کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کی تعداد بھی۔ اس لیے جیمینڈز کو شہبایوں کی بارش میں ممتاز مقام حاصل ہے


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.