اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

ہبل خلائی دوربین نے بلاآخر سپرنووا دھماکہ دیکھ ہی لیا

لندن: ہماری کہکشاں میں موجود ایک ستارہ اپنے اندر ہونے والے دھماکے کے بعد اپنی ہی قوت کے زیرِ اثر گولی کی طرح اڑتا ہوا خلا میں کروڑوں کلومیٹر دور نکل گیا ہے۔ یہ ستارہ سُپرنووا بننے کے مرحلے میں تھا تاہم ایسا صرف جزوی طور پر ہی ہو سکا۔

سُپر نووا ایک ایسا طاقتور دھماکہ ہوتا ہے جو کچھ ستاروں کی زندگی کے آخری مرحلے میں واقع ہوتا ہے جس کے بعد ستارے کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور اس کا مادہ خلا میں بکھر جاتا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ دھماکہ اتنا طاقتور نہیں تھا کہ ستارے کو تباہ کر سکے تاہم اتنا طاقتور ضرور تھا کہ اس نے ستارے کو خلا میں نو لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر دھکیل دیا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ’وائٹ ڈوارف‘ یعنی سفید بونا ستارہ تھا جوکہ ایک اور ستارے کے گرد گردش کر رہا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ دوسرا ستارہ بھی مخالف سمت میں اڑتا ہوا نکل گیا ہوگا۔ ماہرین نے اسے SDSS J1240+6710 کا نمبر دیا ہے۔ جب دو ستارے ایک دوسرے کے گرد ایسے گردش کرتے ہیں تو انھیں بائنری کہا جاتا ہے۔

سائنسدان اس ستارے کی کمیت کی پیمائش میں بھی کامیاب رہے

اس ستارے کے بارے میں پہلے بتایا گیا تھا کہ اس کی فضا غیر معمولی ساخت کی حامل ہے۔ اسے 2015 میں دریافت کیا گیا تھا۔ سائنسدانوں نے پایا کہ اس میں نہ ہائیڈروجن تھی اور نہ ہیلیئم، اس کے بجائے یہ آکسیجن، نیئون، میگینیشیئم اور سلیکون کا بنا ہوا تھا۔ واضح رہے کہ عام طور پر ستاروں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا مادہ ہائیڈروجن گیس ہوتی ہے۔

اب ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی ٹیم نے یہ بھی پایا ہے کہ ستارے کی فضا میں کاربن، سوڈیم، اور ایلومینیئم موجود تھے۔ یہ سب عناصر سپرنووا بننے کے پہلے تھرمونیوکلیئر ردِعمل کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ مگر سائنسدانوں کے مطابق اس ستارے میں آئرن گروپ دھاتیں موجود نہیں تھی جن میں لوہا، نکل، کرومیئم اور مینگنیز شامل ہیں۔

یہ بھاری عناصر عام طور پر ہلکے عناصر کے پکنے سے تیار ہوتے ہیں اور تھرمونیوکلیئر سپرنووا ستاروں کی پہچان ہوتے ہیں۔ ان دھاتوں کی عدم موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ستارہ صرف جُزوی طور پر ہی سپرنووا بن سکا۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف وارویک کے شعبہ طبیعیات سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے مرکزی سائنسدان پروفیسر بورس گینسیک نے کہا: یہ ستارہ منفرد ہے کیونکہ اس میں وائٹ ڈوارف ستاروں کی تمام اہم خصوصیات موجد ہیں تاہم اس میں اتنی تیز رفتار اور غیر معمولی عناصر کی بہتات ہے۔ ستارے کے مجموعی مادے کی مقدار اور اس کے مقابلے میں ان عناصر کی مقدار کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ناقابلِ فہم ہے۔

اس کی کیمیائی بناوٹ ایسی ہے جس سے اس کے اندر ایٹمی ردِعمل ہونے اس کی کمیت کم ہونے اور اس کی رفتار انتہائی تیز ہونے کا پتا چلتا ہے۔ یہ تمام حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ستارے ایک دوسرے کے بہت قریب گردش کر رہے تھے اور اس کے دوران اس میں تھرمونیوکلیئر ردِعمل ہوا ہوگا۔ یہ سُپرنووا کی قسم ہوگی لیکن ایسی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

اس کی تیز رفتار کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ دھماکے کی وجہ سے دونوں ستارے اپنے محور کی رفتار پر متضاد سمتوں میں دھکیلے گئے ہوں۔ سائنسدان اس ستارے کی کمیت کی پیمائش میں بھی کامیاب رہے جو کسی وائٹ ڈوارف ستارے کے لیے بہت کم ہے۔ یہ ہمارے سورج سے 60 فیصد کم مادے کا حامل تھا چنانچہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ یہ ایسا جُزوی سپرنووا کیوں بنا جو ستارے کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکا۔

ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی ٹیم نے یہ بھی پایا ہے کہ اس ستارے کی فضا میں کاربن، سوڈیم، اور ایلومینیئم موجود تھے

سُپر نووا میں جو ایٹمی ردِ عمل ہوتے ہیں وہ ایٹمی بجلی گھروں یا ایٹمی ہتھیاروں میں ہونے والے ردِ عمل سے مختلف ہوتے ہیں۔ زمین پر جو ایٹمی توانائی حاصل کی جاتی ہے وہ فژن یعنی بھاری ایٹموں کو توڑ کر چھوٹے ایٹم بنانے سے حاصل ہوتی ہے جس کے دوران گرمی اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم ستاروں میں یہی کام ہلکے عناصر کے آپس میں مل کر بھاری عنصر بننے سے ہوتا ہے اور اسے فیوژن ردِعمل کہا جاتا ہے۔

سپرنووا ستاروں کے اندر ہونے والا تھرمونیوکلیئر ردِ عمل اُن ایٹمی ردِعمل سے کافی مماثلت رکھتا ہے جو ہم زمین پر مستقبل کے بجلی گھروں میں حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ کام ہلکے عناصر کو ملا کر بھاری عناصر میں تبدیل کرنے سے ہوگا جس سے زبردست توانائی حاصل ہوتی ہے۔

کسی فیوژن ری ایکٹر میں ہم ہلکا ترین عنصر ہائیڈروجن (بالخصوص اس کے مختلف آئسوٹوپ) استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب کسی تھرمونیوکلیئر سپرنووا میں ستارے کا درجہ حرارت اور اس کی کثافت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ بھاری عناصر کے ملنے سے فیوژن ردِعمل شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں کاربن اور آکسیجن ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور اس کے بعد بھاری سے بھاری عناصر بننے لگتے ہیں۔

ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی ٹیم نے یہ بھی پایا ہے کہ اس ستارے کی فضا میں کاربن، سوڈیم، اور ایلومینیئم موجود تھے

جن سپرنووا ستاروں کو سب سے زیادہ بہتر انداز میں سمجھا گیا ہے وہ ٹائپ ون اے سپرنووا ستارے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہم تاریک توانائی کی دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اب ان کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کے نقشے بنائے جاتے ہیں۔ مگر سائنسدانوں کو ایسے ثبوت بھی ملے ہیں کہ تھرمونیوکلیئر سپرنووا کافی مختلف حالات میں وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ یہ مخصوص سپرنووا کسی ایسی مخصوص قسم کا سپرنووا ہوسکتا ہے جو اب تک وقوع پذیر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہے۔

ٹائپ ون اے سپرنووا اپنے اندر ہونے والے دھماکے کے ایک طویل عرصے بعد تک چمکتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے اندر نکل کی موجودگی ہے جو ایک تابکار مادہ ہے۔ تاہم اس موجودہ ستارے میں نکل کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ روشنی کا ایک نہایت مختصر جھماکہ ہوتا جسے دریافت کرنا مشکل ہوتا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.