مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پرخلائی گاڑی “پرسویرینس” روانہ

نیویارک: امریکی خلائی گاڑی پرسویرنس مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پر روانہ ہوگئی ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ آئندہ سال فروری میں سرخ سیارے پر اترے گی اور تحقیق مکمل کرنے کے بعد 2031 میں زمین پر واپس آئے گی۔

پرسویرینس کواٹلس فائیو راکٹ زمین سے خلا میں لے گیا۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی اور جدید ترین گاڑی ہے جس کا حجم درحقیقت ایک کار کے برابر ہے جبکہ اس میں کیمرے، مائیکروفون، لیزر اور کھدائی کے آلات نصب ہیں۔ حالیہ عرصے میں مریخ کے بارے میں جاننے کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے چین اور متحدہ عرب امارات کے مشن بھی اس پڑوسی سیارے کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ تینوں خلائی گاڑیاں سات ماہ میں 30 کروڑ میل کا فاصلہ طے کریں گی۔

پلوٹونیم سے چلنے والی چھ پہیوں کی پرسویرینس مریخ پر اترنے کے بعد کھدائی کرے گی اور مٹی اور پتھر جمع کرکے 10 سال بعد واپس لائے گی۔ اس منصوبے کی کل لاگت 8 ارب ڈالر ہے۔ ناسا کے سائنس مشن کے سربراہ، تھامس زربوکن نے اسے کسی بھی دوسرے سیارے کے لیے انسان کا پہلا راؤنڈ ٹرپ قرار دیا ہے۔ یہ آسمان میں شگاف کرنے جیسا ہے۔ زمین کے ساحل سے اٹھ کر کائنات کے سمندر کا سفر کرنے جیسا۔ میں ہر بار پرجوش ہوجاتا ہوں۔

اس مشن سے نہ صرف مریخ پر زندگی کے سوال کا جواب ملنے کی توقع ہے بلکہ 2030 تک خلانوردوں کے لیے اس سیارے پر اترنے کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائیڈنزٹائن نے کہا کہ اس کا نام پرسویرینس رکھنے کی ایک وجہ ہے۔ کیونکہ مریخ جانا مشکل ہے اور ان دنوں میں مشکل تر کیونکہ ہم یہ کام وبا کے دوران کر رہے ہیں۔

خلا کا برموڈا ٹرائی اینگل کہلانے والے مریخ پر امریکہ کے سوا کوئی ملک اپنی خلائی گاڑی نہیں اتار سکا۔ اب تک آدھی سے زیادہ خلائی گاڑیاں یا تو جل گئیں یا گر کے تباہ ہوگئیں یا مشن ناکام رہا۔ یہ امریکہ کی نویں کامیاب کوشش ہوگی۔ چین کا ایک خلائی جہاز مریخ کے گرد چکر لگائے گا اور دوسرا سطح پر اترنے کی کوشش کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کا خلائی جہاز صرف مدار میں رہے گا۔

زمین اور مریخ کے درمیان سفر کا موقع 26 ماہ میں ایک بار آتا ہے جب دونوں سیارے سورج کے ایک جانب ہوتے ہیں اور ان میں فاصلہ کم ترین ہوجاتا ہے۔ پرسویرینس کی روانگی سے صرف 20 منٹ پہلے 4٫2 شدت کا زلزلہ آیا جس سے لیبارٹری کو بھی جھٹکا لگا، لیکن مشن میں تاخیر نہیں کی گئی۔

یہ مشن 18 فروری 2021 کو مریخ پہنچے گا اور ناسا کا کہنا ہے کہ تب سات منٹ نہایت اہم ہوں گے جن کے دوران خلائی گاڑی کسی انسانی مداخلت کے بغیر 12 ہزار میل فی گھنٹا کی رفتار سے صفر تک پہنچے گی۔ اس میں 25 کیمرے اور دو مائیکروفون لگے ہیں جن سے پل پل کی خبر ملتی رہے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.