اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

قطب شمالی میں تاریخی گرمی

واشنگٹن: سائنس دانوں نے سائبیریا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور منجمد شمالی میں تیزی سے پگھلتی ہوئی برف آب و ہوا کی تبدیلی کی واضح علامتیں کو دنیا کےلئے خطرناک قرار دے دیا ہے۔

سائبیریا اپنے شدید اور تکلیف دہ سرد موسم کی بنا پر شہرت رکھتا ہے۔ لیکن ان دنوں حیرت انگیز طور پر اسے موسم گرما کی لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ مہینے 20 جون کو سائبیریا میں واقع روسی قصبے ورخایانسک میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا، جو 100 اعشاریہ 4 ڈگری فارن ہائیٹ کے مساوی ہے۔

موسمیات کے عالمی ادارے نے اس ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سائیبریا کے کچھ علاقوں میں ان دنوں امریکی ریاست فلوریڈا اور کیلی فورنیا سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے اور وہاں کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔ فلوریڈا اور کیلی فورنیا میں گرمیوں کا موسم خاصا شدید ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت اور گرمی کی طویل لہر آرکٹک کے کئی علاقوں میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھنے کا سبب بن رہی ہے، جس سے اس قطبی علاقے میں برف کے پگھلاؤ میں تیزی آ رہی ہے اور برف کی تہہ کم ہوئی ہے۔ سائیبریا باقی دنیا کی اوسط کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے جس کا وہاں کی مقامی آبادیوں اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔

نولس کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ آرکٹک میں ہوتا ہے وہ وہاں ٹہرتا نہیں ہے۔ وہاں ہونے والی تبدیلی دنیا کے مختلف حصوں کے موسموں کو متاثر کرتی ہے جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ پچھلے ہفتے وہاں کے ایک مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ہم وہاں جو کچھ دیکھ رہے ہیں، یہ ممکن نہیں کہ اس کے اثرات آب و ہوا کی تبدیلی پر نہ پڑیں۔ سائیبریا میں آنے والے گرمی کی اس لہر کے آب و ہوا کی تبدیلی پر واضح اثرات مرتب ہوں گے۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس سال جنوری سے شمالی قطبی دائرے کے اندر جمع ہونے والی کاربن گیسوں کی مقدار گزشتہ 18 برسوں کی سب سے زیادہ مقدار ہے، جب سے وہاں فضا میں موجود کاربن گیسوں کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برف پگھلنے اور زیر سطح منجمد پانیوں کے پگھلنے سے بڑ ی مقدار میں میتھین گیس خارج ہوتی ہے، جس کا شمار گرین ہاؤس گیسوں میں شامل ایک طاقت ور گیس کے طور پر کیا جاتا ہے۔

نولس نےمیڈیاکوبتایا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے پورے علاقے کے قدرتی ماحولیاتی نظام اور ڈھانچے پر نمایاں اثرات پڑ رہے ہیں۔ طبعیات کے قانون کے مطابق، ان اثرات کو پلٹنا بہت ہی زیادہ مشکل ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے کرہ فضائی میں اس وقت جس قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جمع ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہماری آنے والی کئی نسلیں مسلسل بلند درجہ حرارت کا مشاہدہ کرتی رہیں گی، کیونکہ کرہ ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی عمر طویل ہوتی ہے اور وہ بہت سے عشروں تک اپنی موجودگی قائم رکھ سکتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطبی علاقے کی ایک ممتاز علامت برفانی ریچھ کی نسل آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث اس صدی کے آخر تک دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بات صرف برفانی ریچھ تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ 2100 شروع ہونے تک آرکٹک میں حیات کی اور بھی کئی اقسام نیست و نابود ہو جائیں گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.