بدترین آمریت میں بھی سانحہ ماڈل ٹاون جیسا ظلم نہیں دیکھا,مصطفی کمال

پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہاہے کہ بدترین آمریت میں بھی سانحہ ماڈل ٹاون جیسا ظلم نہیں دیکھا،آج کا دن سنہرے حروف میں لکھاجائے گا۔مال روڈ پر اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہناتھا کہ ماڈل ٹاون میں نہتوں پر گولیاں برسائی گئیں لیکن خاموشی سے ظلم سہنے والا ظالم ہے ،4سال بعد بھی متاثرین کو انصاف کا نہ مل سکا ۔انہوں نے کہاکہ 4سال بعد بھی متاثرین کو انصاف کا نہ مل سکا مگر آج کا دن سنہرے حروف میں لکھاجائے گا،عوام نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ،پنڈال میں موجود لوگوں نے مظلوموں کا ساتھ دیا جبکہ تمام جماعتیں ایک ہی مقصدکیلئے جمع ہوئی ہیں۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس تحریک میں شامل ہو کر لوگوں نے اپنی عاقبت کو سنوار لیا ہے ،مجھے دکھ کے ساتھ اس منظر کو دیکھنا پڑ رہا ہے ،ہم سب لوگ یہاں کس بات کے لئے جمع ہیں ؟ اس پنڈال میں ملک کے سابق صدر ،کئی وزرائے اعلیٰ، سابق وزیر اعظم  اور کئی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے  قائدین یہاں کیوں جمع ہوئے ہیں ؟ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم سب یہاں چار سال پہلے ہونے والے حکومتی ظلم کا انصاف لینے کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میری آنکھیں یہ منظر دیکھ رہی ہیں کہ پاکستان کاور اسلام کے نام پر میری قوم میں اتنا شعور ہے کہ ہم اپنے سیاسی و مذہبی اختلافات کو دور کر کے ایک ہی جگہ مظلوموں کے لئے اکٹھے اور متحد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے جو کچھ جمہوری حکومت کے دور  میں ماڈل ٹاؤن میں ظلم  ہوا ، ایسا ظلم تو بدترین سے بدترین آمریت میں بھی نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ ظالم حکمرانوں سے پہلے آج خاموش رہنے والوں کو اللہ کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا ،ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا خون اتنا پاکیزہ تھا کہ تم نے پاکستان میں انصاف کے حصول کی بنیاد ڈال دی ہے ،اس بنیاد کو محدود نہیں ہونا چاہئے ،اس پاکستان میں ہر سال 53 ہزار بچے پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے مر رہے ہیں،میں کراچی سے اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ اگر  تمہیں گولی لگتی ہے تو  کراچی والوں کے دل زخمی ہوتے ہیں ،میں یہی چاہتا ہوں کہ اگر کراچی والوں کو کوئی تکلیف ہو تو لاہوروالوں کو بھی اس کی تکلیف لاہور سمیت پورے پاکستان کا دل دکھنا چاہئے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.