نیب جب بھی کسی کو گرفتار کر تی ہے تو سب بیمار ہو جاتے ہیں، سپریم کورٹ جج جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد :  سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جب بھی نیب کسی کو گرفتار کرتا ہے تو وہ بیمار ہوجاتا ہے ، میڈیکل بورڈ بھی لوگوں کو فیور دیتا ہے ، نیب کو چاہیے کہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنائے۔
سابق صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن سمیت محکمہ اطلاعات سندھ میں 5 ارب 75 کروڑ روپے کے کرپشن ریفرنس میں ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے اور کہا کیا وجہ ہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہی لوگ بیمار ہوجاتے ہیں قانون بیمار لوگوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، اور  پتا چلا کہ شرجیل میمن کو ہسپتال کا پورا فلور دیا گیا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ صوفی محمد کیلئے بھی ایک وارڈ متعین کیا گیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت مسترد کرکے شرجیل میمن کو گرفتار کیا تھا ، گرفتاری کے بعد بیمار ہونا ایک روایت بن گئی ہے ، میڈیکل بورڈ نے بھی لوگوں کو فیور کرنا شروع کردیا ہے ، نیب کو چاہیے کہ وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنائے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت کی مزید سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک کیلئے ملتوی کردی ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.