ملزم عمران کی یہ تصویر کس کے گھر کی ہے؟

مقتولہ زینب کے والد امین کے وکیل آفتاب باجوہ نے شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا، ذرائع سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا تھا کہ قصور واقعہ میں گرفتار کیے گیے مظاہرین کو قید سے رہا کیا جائے جس پر کوئی مثبت ایکشن سامنے نہیں آیا۔ وکیل آفتاب باجوہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کیاصل حقدار جے آئی ٹی نہیں بلکہ شاہین اسلام ویلفیر کے نوجوان ہیں جنہوں نے تین بار ملزم کی نشاندہی کرکے

پولیس حکام کو بتایا جس پر شہباز شریف نے انعام کا اعلان بھی کیا تھا مگر اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔قصور کی 7 سالہ زینب انصاری کے ساتھ زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار ملزم محمد عمران نے اپنے ویڈیو میں لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔زینب کے قاتل عمران کے پولیس کو دیے گئے اعترافی بیان کی ویڈیو نجی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے جس میں ملزم کو اپنے جرم کا اعتراف کرتے واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔محمد عمران نے اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں کہا کہ زینب کو والدین سے ملوانے کا کہہ کر گھر سے ساتھ لے کر گیا، دور ایک لائٹ کو دیکھ کر کہا کہ ہم قریب پہنچ گئے ہیں، جب ہم وہاں پہنچے تووہاں ایک بندہ کھڑا تھا۔ملزم محمد عمران نے مزید بتایا کہ زینب کو گھماتے گھماتے بہت وقت گزر گیا تو اسے کہا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں، پھر میں نے زینب کو واپسی کا کہا۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق ملزم عمران نے دوران تفتیش انکشافات کیے کہ اس نے زینب کو پونے 7 بجے اغوا کیا، مناسب جگہ نہ ملنے پر زینب کو ڈیڑھ کلو میٹر سےزائد ساتھ لے کر گھوما، زیر تعمیر سوسائٹی میں پکڑے جانے کے خوف سے کوڑے کے ڈھیر پر زینب کو لے گیا۔ملزم عمران نے مزید بتایا کہ وہ جن گھروں میں کام کرتا انہی کی بچیوں کو اغوا کرتا، 8 بچیوں سے زیر تعمیر مکانوں جب کہ 2 سے کوڑے کے ڈھیروں پر زیادتی کی۔ذرائع کے مطابق ملزم عمران نے سنسنی خیز انکشاف میں بتایا کہ وہ بچیوں کونیاز کے چاول، ٹافیاں اور خاص کر جو بچیاں بالوں میں کلپ لگاتی تھیں انہیں کلپ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاتا تھا۔عمران نے مزید بتایا کہ اس نے چلڈرن اسپتال میں داخل کائنات کو دہی دلوانے کے بہانے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم سے تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ ملزم عمران چند روز سے زینب کے گھر بار بار جاکر کئی گئی گھنٹے بیٹھا رہا، عمران کے 8 بچیوں کے ساتھ ڈی این اے میچ کرگئے ہیں جب کہ دو بچیوں کے ڈی این اے فارنزک شواہد ضائع ہونے کے باعث میچ نہیں کیا جاسکا لیکن ملزم نے خود بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔تصویر میں نظر آنے والے چارپائی اس کے اپنے گھر کی ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.