Daily Taqat

ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں، چیف جسٹس

ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے ہمارے پاس آتے ہیں، پتہ ہے کون سا جج کتنے پانی میں ہے

 لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل نے کھلی عدالت میں کی، جس کے دوران چیف جسٹس نے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کا نام بھی پاناما لیکس میں آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل تھا۔ جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا بیان حلفی پیش کرنے کی اجازت مانگی۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ حامد خان آپ سابق چیف جسٹسز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اتنے معتبر ججز کو نہیں بلائیں گے اور نہ ہی سابق چیف جسٹس کو بلانے کا حکم دیں گے، اگر حامد خان آپ خود انہیں رضا کارانہ لے آئیں تو اعتراض نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حامد خان آپ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق وکلاء کے بیان حلفی دے رہے ہیں کیا یہ مناسب ہے؟

وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس فرخ عرفان پر یہ الزام بھی ہے وہ دوران سماعت غصے میں آ جاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھی جج اسد منیر کا بیان حلفی پیش کر رہا ہوں۔ سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس اسد منیر بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوئے اور کہا کہ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق بیان حلفی میرا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق جج اسد منیر پر جرح کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو جسٹس فرخ عرفان کے ٹیکس معاملات کا علم ہے؟ اس پر اسد منیر کا کہنا تھا کہ مجھے ان کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے جسٹس (ر) اسد منیر سے پوچھا کہ آپ جسٹس فرخ عرفان کو کب سے جانتے ہیں؟ جس پر ان کا جواب تھا کہ میں 1990 سے جسٹس فرخ عرفان کو جانتا ہوں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید پوچھا کہ کیا آپ کو جسٹس فرخ عرفان کی پاناما لیکس سے پہلے آف شور کمپنیوں سے تعلق کا علم تھا؟ اس پر بھی جسٹس (ر) اسد منیر نے نفی میں جواب دیا۔ اس دوران چیف جسٹس نے بھی جسٹس (ر) فرخ عرفان سے سوال کیا کہ آپ سے بیان حلفی کے لیے کس نے رابطہ کیا؟ اس کے جواب میں جسٹس (ر) اسد منیر نے کہا کہ بیان حلفی کے لیے جسٹس فرخ عرفان نے خود رابطہ کیا تھا۔

چیف جسٹس نے سابق جج سے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی خود ٹائپ کیا یا اسٹینو سے کرایا؟ ہم اسٹینو اور ٹائپسٹ کو بھی بلا لیں گے۔ سابق جج اسد منیر کا کہنا تھا کہ پرنٹر میرے دفتر کا نہیں تھا، میں نے ای میل کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس کو ای میل کیا؟ جس کے جواب میں سابق جج کا کہنا تھا کہ فرخ عرفان کے بھائی حسن عرفان جو اس مقدمے میں وکیل بھی ہیں۔

اس دوران چیف جسٹس نے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حامد خان، میں دیوانی مقدمات میں بہترین جرح کرنے والا وکیل رہا ہوں، لہٰذا فوراً گواہ لائیں ہم سب کے اکٹھے بیان قلم بند کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر آپ کہتے ہیں تو ہم خود گواہ بلانے کی آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ہم آواز لگا دیں کہ فلاں فلاں حاضر ہو۔

انہوں نے کہا کہ ”حامد خان جتنے وکلاء کے بیان حلفی دیے ہیں وہ جج صاحب کی لاء فرم کے ملازم ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ بیان حلفی دینے والے وکلاء سے متعلق ایک لفظ لکھ دیا تو ان کا مستقبل تباہ ہو جائے گا، تڑی نہیں لگا رہا سوچ رہا ہوں یہ کتنا بڑا رسک لے رہے ہیں”۔

اس دوران وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ آپ سختی سے بات کرتے ہیں تو نوجوان وکلاء گھبرا جاتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے رپورٹڈ مقدمات کی فہرست طلب کرلی۔  دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان سے مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حامد خان ہمیں بتا دیں کہ ہمارا جج دیانت دار ہے، ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سادہ سوال یہ ہے کہ پیسہ جائز طریقے سے کمایا اور جائز طریقے سے باہر لے گئے؟ سادہ سا سوال ہے کہ دیانت داری کا ثبوت دے دیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو لانا چاہتے ہیں تو لے آئیں، لیکن افتخار چوہدری نے آپ کی طرف سے بیان حلفی میں یہی کہا ہے کہ فرخ عرفان اچھے آدمی ہیں؟ افتخار چوہدری صاحب سے پوچھا جائے آف شور کمپنیوں کا علم تھا؟ تو وہ کیا کہیں گے مجھےعلم نہیں۔

اس پر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ افتخار محمد چوہدری کی ذات سے متعلق کیوں سوال ہو؟ وہ تو اتنا ہی بتائیں گے کہ فرخ عرفان جج بننے سے پہلے کاروبار چھوڑ چکے تھے۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتا دیں یہ پیسہ پاکستان سے نہیں کمایا، جب باہر تھے تو یہ ڈکلئیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے ہمارے پاس آتے ہیں، پتہ ہے کون سا جج کتنے پانی میں ہے۔ بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل شام 4 بجے تک ملتوی کردی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »