وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف آفیسر کا بیوی کے نام پر رہائش کیلئے سر کاری گھر الاٹ کرنے کا انکشاف

گورنمنٹ کی الاٹمنٹ پالیسی کو نرم کروا کرایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سفارشات کے برعکس  رہائش کےلئے سرکاری گھر الاٹ کیا گیا. حیدر علی کا وفاقی حکومت کی سروس آفس مینجمنٹ گروپ سے تعلق ہے‘ ڈیپوٹیشن پر ایوان وزیراعلی میں تعینات ہیں.  پالیسی کے مطابق ان کی بیوی نہ تو سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کی اہل ہے اور نہ ہی ایس اینڈ جی اے ڈی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے. میرٹ کےخلاف الاٹمنٹ سے حکومت کے بیانئے میرٹ و شفافیت کی نفی ہوئی‘ ہمیں جائز حق سے محروم کیا گیا ہے‘ اہل افسران کو تشویش

لاہور(سی اے ایس ) وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے اپنے پرسنل سٹاف افسر کی بیوی کے نام پرپنجاب گورنمنٹ الاٹمنٹ پالیسی برائے سرکاری گھر کو نرم کرکے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سفارشات کے برعکس رہائش کے لئے سرکاری گھر الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس سے اہل افسران میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حیدر علی گزشتہ چھ سال سے پنجاب میں ڈیپوٹیشن پر ہے جو غیر قانونی ہے۔

روزنامہ طاقت کی تحقیقات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کے پرسنال سٹاف افسر حیدرعلی نے وزیر اعلی پنجاب کو ایک درخواست دی کہ ان کے نام پر الاٹ کیا گیا سرکاری گھر سی 1 جی او ار ان کی بیوی کے نام پر منتقل کردیا جائے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے حکم پر اس درخواست پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے معاملے کا جائزہ لیا تو انکشاف ہو کہ حیدر علی وفاقی حکومت کی سروس آفس مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈیپوٹیشن پر ایوان وزیراعلی میں تعینات ہیں۔ پنجاب حکومت نے ان کو مذکورہ گھر جنوری 2019میں الاٹ کیا تھا اب وہ یہ گھر اپنی بیوی جو ٹیوٹا میں بطور منیجر کام کرتی ہے کے نام پر ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں۔ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ حیدرعلی کو پہلے جی او آر فور میں خوشنما 24 گھر الاٹ کیا گیا تھا لیکن بعد میں تبدیل کرکے موجودہ گھر الاٹ کیا گیا تھا۔ پالیسی کے پیرا33(b) کے تحت کیونکہ وہ وفاقی حکومت کے ایک سروس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور صوبے میں ڈیپوٹیشن پر ہیں جب ان کی وفاق میں ٹرانسفر ہوگی تو ان کو دو ماہ میں گھر خالی کرنا ہوگا۔ پالیسی کے مطابق ان کی بیوی نہ تو سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کی اہل ہے اور نہ ہی ایس اینڈ جی اے ڈی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ کیونکہ گھر سی کیٹیگری کا ہے جس الاٹمنٹ پالیسی کے مطابق بیوی کے نام پر ٹرانسفر بھی نہیں ہوسکتا تاہم الاٹمنٹ پالیسی کے پیرا 7کے مطابق گھر کی ٹرانسفر غیر قانونی تصور ہوگی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے وزیراعلی کو مزید مطلع کیا کہ سپریم کورٹ نے اوٹ آف ٹرن ، انٹئٹلمنٹ کے خلاف اور الاٹمنٹ کے اہل نہ ہونے والے افسران کو سرکاری گھر دیے سے روکا ہوا ہے اور وزیراعلی کے حکم پر ایسی الاٹمنٹ جو ماضی میں کی گئی ہیں کو واپس لیا گیا ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب عدالت اعظمی میں حلف نامہ بھی دے چکے ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے وزیراعلی کو سمری کے ذریعے مزید بتایا کہ اہلیت نہ رکھنے کی وجہ سے افسر کی بیوی کے نام پر گھر کی ٹرانسفر سے ایک گندی مثال قائم ہوگی جس سے الاٹمنٹ پالیسی خطرے میں پڑسکتی ہے او ر عدالت میں حکومت کے لئے قانونی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان حالات میں درخواست کو رد کیا جائے کیونکہ یہ ایک نیا پنڈوراباکس کھولے گی کیونکہ یہ پالیسی سے متصادم ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی طرف سے بجھوائی گئی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے ہارڈ شپ کو بنیاد بنا کر پالیسی کونرم کرتے ہوئے اکتوبر 2019کوگھر اپنے پرسنل سٹاف افسر کی بیوی جو ٹیوٹا میں ملازم ہے کے نام پر ٹرانسفر کردیا جس پر ایس اینڈ جی اے ڈی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔امبر افضل چھٹہ2016سے ٹیوٹا میں بطور مینجرتعینات ہے اورذرائع کے مطابق ان کی تعیناتی بھی مبینہ طور پر مشکوک پراسس کے ذرائع ہوئی تھی۔پنجاب کے الاٹمنٹ کےلئے لائن میں لگے اہل افسران کا کہنا ہے کہ میرٹ کے خلاف گھر کی الاٹمنٹ سے حکومت کے بیانئے میرٹ و شفافیت کی نفی ہوئی ہے اور افسران میں بددلی بھی پھیلی ہے کیونکہ وہ جائزہ حق سے محروم کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ حیدر علی تین چیف منسٹرز ‘شہباز شریف‘حسن عسکری اور سردار عثمان بزدار کے ساتھ کام کر چکا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.