سینیٹ الیکشن : مسلم لیگ نے تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالنے والوں کا سراغ لگا لیا

لاہور: حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے پنجاب سے ایسے 28 ارکان صوبائی اسمبلی کا سراغ لگالیا ہے جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بجائے تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا۔
سینیٹ الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن نے پارٹی پالیسی پر عمل نہ کرنے اور تحریک انصاف کے چوہدری سرور یا پیپلز پارٹی کے شہزاد علی خان کو ووٹ دینے والے ارکان کا پتا چلانے کیلئے 2 تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔  چوہدری سرور نے سینیٹ کی نشست پر اپنی پارٹی سے 14 اور پی پی کے امیدوار نے پارٹی ووٹوں سے 18 ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے۔
ن لیگ کی ایک کمیٹی رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی جس میں خلیل طاہر سندھو، رانا ارشد، عظمیٰ بخاری، ذکیہ شاہنواز ، میری گل اور مہوش سلطانہ پر مشتمل تھی ۔ اس کمیٹی نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے 28 ارکان صوبائی اسمبلی کا سراغ لگا کر اس کی رپورٹ اعلیٰ حکام کے حوالے کردی ہے، اس رپورٹ میں زیادہ نام خواتین ارکان کے ہیں ، اب پارٹی لیڈرشپ پر منحصر ہے کہ وہ ان کے خلاف کیا ایکشن لیتی ہے تاہم انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پہلے ہی بہت سے مسائل کا شکار ہے اس لیے باغی ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا تاہم ان لوگوں کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض لوگوں نے پیسوں کیلئے ووٹ بیچے جبکہ کچھ لوگوں نے تحریک انصاف کے امیدوار کو محفوظ مستقبل کی خاطر ووٹ دیا۔
تحقیقات کے دوران انتہائی دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ لیگی ارکان نے جان بوجھ کر اپنے ووٹ ضائع بھی کیے کیونکہ خواتین کی نشست پر 13، اقلیتی سیٹ پر 11 اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر 9 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ جنرل کی سیٹ پر صرف 3 ووٹ ضائع ہوئے، اگر یہ ووٹ ضائع نہ ہوتے تو تمام سیٹیں ن لیگ کے حصے میں آتیں۔
مریم نواز تحقیقات کیلئے سنجیدہ جبکہ حمزہ شہبازانویسٹی گیشن کیلئے ہچکچاہٹ کا شکار تھے اور رانا ثنا اللہ نے بھی کمیٹی کی سفارشات کو کچھ خاص اہمیت نہیں دی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.