پانامہ اور عمران خان نااہلی کیس میں بھول کی مختلف تعریفیں

اسلام آباد: بھول کی مختلف تعریفیں سامنےآئی ہیں، ایک کیس میں یہ بددیانتی جبکہ دوسرے میں بددیانتی نہیں۔گویا ایک بھول حلال اورایک حرام ۔پاناما پیپرز کے فیصلے اور عمران خان نااہلی کیس کے فیصلے میں Omissionکےحوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔ عمران خان کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اثاثوں کے حوالے سے خطاکےباوجوداسے بددیانتی قرار نہ دیاجبکہ اسی عدالت کے پاناما پیپرز کیس میں بددیانتی کے معنی مختلف ہیں۔ عمران خان کی جانب سے ہونے والی تمام خطائیں چاہے وہ ان کی آف شور کمپنی ہو یا2015ءسےپہلے شاہراہ دستور ٹاورون پرفلیٹ ظاہر نہ کرنا،سب ان کی سیاست میں آنے کے بعد سر زد ہوئیں۔عمران خان کیس میں 15دسمبر کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر قراردیا کہ عمران خان کی جانب سے کئی گئی بھول چوک میں کوئی بددیانتی نہیں ، فیصلے میں کہا گیا ’’ریسپانڈنٹ نے ٹیکس سال2014ء کے گوشواروں میں شاہراہ دستور ٹاورون اسلام آباد کے لئے پیشگی ادائیگی کو ظاہر کیا۔ اگلے سال ریسپانڈنٹ کو فلیٹ الاٹ ہوا اور اس نے ٹیکس سال 2015ء کے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں اور2015ء میں عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن42اے کے تحت الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے سالانہ ریٹرنز میں بھی ظاہر کیا۔اس لئے ہم قراردیتے ہیں کہ سال 2014ء میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے سالانہ ریٹرنزمیں اس جائیداد کے حوالے سے ریسپانڈنٹ کی جانب سے اپنے اثاثوں کے سلسلے میں کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی۔ ان کی جانب سے کی گئی بھول چوک میں بددیانتی کا کوئی عنصر نہیں‘‘۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا ’’بلا شبہ اس سے پیٹشنرکےاس مؤقف کی کمزوری ظاہرہوتی ہےکہ ریسپانڈنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں میں اپارٹمنٹ اور اس کے لئے ادا کی گئی پیشگی رقم کا ذکر ہے اس لئے ریسپانڈنٹ کی جانب سے ان حقائق کا تذکرہ نہ کئے جانے کو سال 2014ء کے گوشواروں میں حقائق چھپانے سے تعبیر کیا جائے جو اثاثے چھپانے کے زمرے میں آتا ہے پس یہ بھول نااہلی کا سبب بن سکتی ہے۔ہمیں تسلی ہے کہ 2014ء میں الیکشن کمیشن کو اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کراتے وقت ریسپانڈنٹ کے پاس بتانے کے لئے کوئی مخصوص اثاثہ نہیں تھا۔یہ سوال نہیں اُٹھایا گیا کہ جمع کرائی گئی نقد رقم چھپایاگیا اثاثہ ہے اور اس بناء پر بھی کہ نقد اثاثے کی منتقلی پر بھی کبھی سوال نہیں اٹھایا گیا۔‘‘فیصلے میں قراردیا گیا ’’مزیدعملی سطح پر یہ کہ پٹیشن میں خود اعتراف کیا گیا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ42کے تحت اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں میں کسی غلطی یا بھول چوک سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوتے ہیں نہ کہ اُمیدوار نااہل قرار پاتا ہے۔ یہ نتیجہ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف یا عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن99ون ایف کے تحت عدالت سے صادر ہوگا۔پٹیشنر کی جانب سے ایسی کوئی استدعا نہیں کی گئی یامقدمہ پیش نہیں کیا گیا۔ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں ہم قراردیتے ہیں کہ پٹشنر کی درخواست غلط رائےکی بناپراور سراسر بے بنیاد ہےاوراسی لئےمسترد کی جاتی ہے‘‘۔ تاہم پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے قراردیا کہ نواز شریف وصول نہ کی جانے والی تنخواہ کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کی بناء پر بددیانت ہیں اس لئے انہیں وزیراعظم کے عہدے سے نااہل قراردیا جاتا ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے میں کہا گیا’’ عدالت کے پیش نظر اگلا سوال یہ ہے کہ آیا ریسپانڈنٹ نمبر ایک ایف زیڈ ای کیپٹل کے بورڈ چیئرمین کی حیثیت سے تنخواہ کے مستحق تھےجونکلوائی نہ بھی ہوتوقابل وصول ہونےکی بناپر اثاثہ ہوگی ،کیااسےعوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کے سیکشن12ٹو کے تحت ظاہر کرنا ضروری ہوگا اور یہ کہ آیا اسے ظاہر کرنے میں ناکامی سےوہ نااہل قرار پائیں گے؟ ‘‘ فیصلے میں کہا گیا’’اُوپر دی گئی تعریفوں سے کوئی شبہ نہیں رہتا کہ نہ نکلوائی گئی تنخواہ بہرحال قابل وصول ہوگی کیونکہ اس سے تمام قانونی اورعملی مقاصد کے لئے اثاثہ بنے گاجبکہ یہ تمام قانونی و عملی مقاصد کے لئے ایک اثاثہ ہے تو اسے ریسپانڈنٹ نمبر1کی جانب سے عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن12ٹو کے تحت کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنا ضروری تھا،جب ہم نے ریسپانڈنٹ نمبر1 کے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سے سوال کیا کہ آیا مذکورہ ریسپانڈنٹ نے کبھی دبئی میں ورک پرمٹ (اقامہ) حاصل کیا ،کبھی ایف زیڈ ای کیپٹل کے بورڈ چیئرمین رہے اورکیا انکی تنخواہ مقرر تھی تو ان کا جواب ہاں میں تھا ،انہوں نے محض یہ اضافہ کیا کہ ریسپانڈنٹ نمبر1نےکبھی تنخواہ وصول نہیں کی، اس اعتراف کا ریسپانڈنٹ نمبر1سے وکیل کی جانب سے تحریری دلائل میں زیادہ دو ٹوک انداز میں اعادہ کیا گیا۔‘‘فیصلے میں مزید کہاگیا کہ نہ نکلوائی گئی تنخواہ قابل وصول ہونے کی بناء پر اثاثہ تھی اور اس کا نواز شریف کی جانب سے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر کیا جانا ضروری تھا جونہ کرنے کی بناء پر وہ دیانت دار نہیں رہے۔ فیصلے میں قراردیا گیا ’’اس بات سے انکار نہیں کیا گیا کہ ایف زیڈ ای کیپٹل کے بورڈ چیئرمین کی حیثیت سے ریسپانڈنٹ نمبر1تنخواہ کے مستحق تھے، اس لئے یہ بیان کہ اُنہوں نے تنخواہ نہیں نکلوائی،اس تنخواہ کےقابل وصول ہونےکی حیثیت اوراسکےنتیجےمیں اسےاثاثہ بننےسےنہیں روکتا۔ جیسا کہ نہ نکلوائی گئی قابل وصول تنخواہ اثاثہ ہے اس لئے عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن12ٹو کے تحت ریسپانڈنٹ نمبر1کے لئے 2013ء کے الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی ا س کا ظاہر کیا جانا ضروری تھا جبکہ ریسپانڈنٹ نمبر1نے مذکورہ اثاثہ ظاہر نہیں کیا جس کی بناء پر یہ مذکورہ بالاقانون کی خلاف ورزی میں حلفی بیان غلط جمع کرانا تصورہو گااور اسی لئے عوامی نمائندگی ایکٹ سیکشن 99ون ایف اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت وہ دیانت دار نہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.