امریکہ سازشوں سے بازنہ آیاتواس کی سپرمیسی اورنیوورلڈ آرڈرفلسطین میں دفن ہوجائے گا، علمائےکرام

لاہور: مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، جید علماءکرام، مشائخ عظام اور سجادہ نشین حضرات نے ھدیۃ الھادی پاکستان کی نظام مصطفی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاشیات اور علاقوں کی بنیاد پر جنگوں کا دور ختم ہو چکا‘اس وقت امریکی نیور ورلڈ آرڈر اور نظام مصطفی ﷺ  کے درمیان جنگ جاری ہے،ہم نے دشمن کی مسلط کردہ اس جنگ کو پوری قوت سے لڑنا ہے، نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے ملک گیر تحریک چلائیں گے، فرقہ واریت میں تشدد نے ملکوں و معاشروں کو بہت نقصان پہنچایا،  ہم نے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے،  امریکہ فلسطین میں مسلمانوں کیخلاف نیا محاذ کھول رہا ہے، وہ سازشوں سے باز نہ آیا تو اس کی سپرمیسی اور نیوورلڈ آرڈرفلسطین میں دفن ہو جائے گا،فلسطینی و کشمیری مسلمانوں کی آزادی کیلئے ان کی ہر ممکن مددوحمایت کریں گے، ہمیں سیکولر نہیں اسلامی پاکستان چاہیے۔عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت قانون تبدیل کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، امریکہ ، بھارت گٹھ جوڑ کر کے افغانستان کے راستے پاکستان پر حملہ آور ہیں،  نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں ہے،  دشمن قوتیں حرمین شریفین کو بھی نشانہ بنانا چاہتی ہے۔

ھدیۃ  الھادی پاکستان کے چیئرمین پیر سید ہارون علی گیلانی کی میزبانی میں ایوان اقبال ہونے والی کانفرنس سے امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،دیوان عظمت چشتی، لیاقت بلوچ،صاحبزادہ ابوالخیر زبیر،خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر،مولانا امیر حمزہ،عبدالرﺅف ملک، محمد یعقوب شیخ،حافظ عبدالغفار روپڑی،بلال خان کاکڑ،رضیت بااللہ، مولانا عزیر الرحمان،صاحبزادہ ذوالفقار قریشی،بیرسٹر عمیر، سید معرفت شاہ ،اویس نقوی،اسامہ خان،قاری محمد وقاص مجددی ودیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پرمختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد موجود تھے۔

نظام مصطفیﷺ  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ھدیة الھادی پاکستان کے چیئرمین پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہاکہ اللہ نے ہمیں پاکستان ایک نعمت کے طور پر دیا۔اس کے بعد کمی کس کی طرف سے ہوئی۔ہم کب مستقبل کے لئے کوئی قدم اٹھانے کو تیار ہوں گے؟وہ دن کب آئے گا؟فرقہ وارایت کی زنجیریں ہم نے اپنے پاﺅں کی بیڑیاں بنائی ہوئی ہیں،کہیں مفادات کی سیاست رکاوٹ بنتی ہے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام ،افغانستان،کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟لیبیا،یمن،مصر،برما میں کیا ہو رہا ہے ؟کسی نے نسل ،زبان،مسلک نہیں پوچھا بلکہ یہ دیکھا کہ کلمہ کون پڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیاگیا، ہم سب کو مل کر نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے بھرپور جدوجہد کرنی ہے، ختم نبوت اور نظام مصطفی ﷺکے نفاذ کا مسئلہ ہم سب کا ہے، یہ کسی ایک مسلک نہیں تمام مسلمانوں کا مشترکہ معاملہ ہے، اس معاملہ سے چشم پوشی کی گئی تو فرقہ واریت پھیلانے کی سازشیں زور پکڑیں گی۔

امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ معاشیات اور علاقوں کی بنیاد پر جنگوں کاپرانا دور ختم ہو گیا، آج دنیا میں جنگ یہ ہے کہ امریکی نیو ورلڈ آرڈر چلے گا یا نظام مصطفی ﷺ چلے گا؟  ہم نے دشمن کی مسلط کردہ یہ جنگ لڑنی ہے، اس وقت بڑی استقامت اور اتحاد کی ضرورت ہے،  فرقہ واریت میں تشدد سے ملکوں و معاشروں کا بہت نقصان ہوا،  اب حالات بدل رہے ہیں، ہم نے سب جماعتوں ، لوگوں کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اکٹھا کرنا ہے،یہ تحریک ان شاءاللہ آگے بڑھے گی،ہمیں سیکولر نہیں اسلامی پاکستان چاہیے،  ہمیں ملک کیخلاف سازشوں کا خاتمہ کرنا ہے۔انسانی معاشروں پر اللہ کا حکم قائم ہونا چاہیے، اگر یہ نظام قائم ہو گا تو فساد، ظلم اور حقوق کا غصب نہیں ہو گا،  آج امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے یہ سب مسائل اسلامی نظام کے نفاذ سے حل ہوں گے، نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی تحریک چلانے کیلئے ہم سب ھدیة الھادی کے ساتھ ہیں۔

پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہاکہ امریکہ کو افغانستان میں شکست برداشت نہیں ہو رہی،وہ فلسطین میں نیا محاذ کھول رہا ہے، اگر وہ باز نہ آئے تو افغانستان میں تو صرف امریکہ میں شکست ہوئی، فلسطین میں اس کا نیوورلڈ آرڈر دفن ہو جائے گا، ایٹمی پاکستان مسلم امہ کے تحفظ کیلئے بہت بڑا کردار ادا کرے گا، اس وقت امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ پندرہ سال بے وقوف بنایا گیا، امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی کر رہا ہے، ہم نے متحد ہو کر کشمیر بھی آزاد کروانا ہے اور تیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کا بھی تحفظ کرنا ہے، فلسطین اور کشمیر کی آزادی کا ضامن پاکستان ہے لیکن اس کیلئے ایک آزاد اسلامی پاکستان چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ آج سوال کیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام دنیا میں کہیں نافذ ہوا ہے؟ تو ہم انہیں مدینہ کی ریاست پیش کرتے ہیں، ہم نے پاکستان میں بیٹھ کر وہی کام کرنا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ میں بیٹھ کر کیا۔ جب آپ صحیح معنوں میں نظام مصطفیﷺ  کو لیکر کھڑے ہوں گے تو پھر نیو ورلڈ آرڈر والے خطرہ محسوس کریں گے، آج وہی خطرات ہیں ہمیں درپیش ہیں، یہ دور محمد ﷺ کا ہے، قیامت تک محمد ی شریعت رہے گی، غلامیوں کا دور ختم ہو رہا ہے،حالات نکھر رہے ہیں، روشنی صاف دکھائی دے رہی ہے،  اس چیز سے امریکہ، بھارت ، اسرائیل اور ان کے اتحادی پریشان ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا پر غالب ہونےو الا ہے، پابندیوں اور نظربندیوں کے سلسلہ اسی وجہ سے ہے، پاکستان کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہاں سے روشنی پھیلے گی اور دنیا میں نظام مصطفیﷺ  قائم ہو گا،  وہ اس ملک پر پابندیاں لگا رہے ہیں،  اسی طرح جو اس ملک میں یہ دعوت دے رہے ہیں ان پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں، رکاوٹوں اور پابندیوں کی پرواہ نہیں،  انہی مشکلات میں نظام مصطفیﷺ  قائم کریں گے۔

سجادہ نشین پاک پتن شریف دیوان عظمت چشتی نے کہا کہ آج کے حالات میں نظام مصطفیٰﷺ  کی اشد ضرورت ہے،معمولی اختلافات کی وجہ سے ہم گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ ہم پرپابندیا ں لگاتا ہے اور انڈیا ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اتحاد امت کے لئے ہم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں،اس ملک میں نظام مصطفی ﷺ قائم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،ہم دنیا کی مضبوط ترین قوم ہیں۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر حملہ کیا گیا،قوانین کو غیر موثر کرنے کے اقدامات کئے گئے،امریکہ و یورپ کا حکمرانوں پر زور ہے کہ اس حوالہ سے قانون کو تبدیل کیا جائے،آج اشتراکیت ،مغربی سرمایہ دارانہ نظام،سیکولرازم سب نظام ڈوب گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ ہم پر حملہ آور ہیں،کشمیری ستر سالون سے قربانیاں دے رہے ہیں وہ قابض بھارت کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں،ٹرمپ بیت المقدس پر حملہ آور ہوتا ہے، حرمین شریفین پر بھی ایسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے کہ عالم اسلام دست و گریبان ہو جائے، ان سازشوں کے مقابلے میں ہمیں متحد ہونا پڑے گا، پاکستان کو اللہ نے زراعت،پانی کی طاقت دی،لوگوں میں صلاحیتیں ہیں لیکن غربت،بے روزگاری ،کرپٹ مافیا ریاست پر حملہ آور ہیں۔انہوں نے کہا کہ گیلپ سروے میں پچاسی فیصدعوام کی رائے ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل نظام مصطفیٰﷺ  میں ہے، دینی طاقتوں کو یکجا ہو کر نظام مصطفی کے لئے قدم آگے بڑھانا ہو گا۔

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہاکہ پاکستان کیخلاف سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے پوری پاکستانی قوم متحد و بیدار ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ قانون تبدیل کرنے کی بیرونی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سجادہ نشین کوٹ مٹھن شریف خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہا کہ دین اسلام میں روا داری ہے اگر اس کو ایک بار پھر رائج کر دیا جائے تو فروعی اختلافات اور مذہبی تنازعات ختم ہو سکتے ہیں۔صبر وتحمل،رواداری نظام مصطفیٰﷺ  کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔

تحریک حرمت رسول ﷺ کے چیئرمین مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں لیکن انڈیا کے اندر مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ امریکہ کو انڈیا میں ظلم و بربریت نظر نہیں آتا اورپاکستان، سعودی عرب کو مذہبی آزادی حاصل نہ ہونے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا میں امن و سلامتی کا قیام نظام مصطفی کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ نبی کریم ﷺ مسجد،معاش،معاشرت،کاروبار سب میں بڑے ہیں،ہمیں مکمل سیرت اپنا نی ہو گی، سیکولرازم، لادینیت کی ملک میں بات ہو تو اس کے خلاف سب کے ساتھ چلیں گے،ہمیں لاڑکانہ،بنی گالہ،رائیونڈ کی ضرورت نہیں ہمیں مکہ و مدینہ کی ضرورت ہے،سیاسیات میں کالی کملی والے کے قانون کو مانیں گے،دین اسلام ہی تمام انسانوں کو مکمل حقوق دیتا ہے۔

نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ دنیا میں نظام مصطفیٰ کا مستقبل روشن ہے اسی سے ہم ترقی کر سکتے ہیں ۔نظام مصطفی سے سیاست،معیشت،کلچر،ثقافت کو درست رکھ سکتے ہیں ۔اسی سے کرپشن،ناانصافی کا خاتمہ ہو گا اور امن و امان قائم ہو گا۔علماءو مشائخ متحد ہو جائیں ۔پاکستان میں عقیدہ ختم نبوتﷺ  سے کھیلا گیا،اس ملک کی بقا نظریہ پاکستان میں ہے۔علامہ ثاقب اکبر نے کہاکہ ملک سے فرقہ واریت ختم کرنا بہت ضروری ہے، اس کیلئے ہمیں فروعی مسائل ترک کرنا ہوں گے، سیکولرازم کی دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جماعت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ پاکستان میں استحکام نظام مصطفیٰ ﷺ  کے نافذ ہونے سے آئے گا،جس نعرے پر پاکستان بنایا گیا تھا وہی نظام پاکستان میں رائج کیا جائے،آج پاکستان کو استحکام بخشنے کے لئے مشائخ،علماءکرام،سجادہ نشین موجود ہیں۔جماعت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ پاکستان میں استحکام نظام مصطفیٰﷺ  کے نافذ ہونے سے آئے گا، جس نعرے پر پاکستان بنایا گیا تھا وہی نظام پاکستان میں رائج کیا جائے، آج پاکستان کو استحکام بخشنے کے لئے مشائخ،علماءکرام،سجادہ نشین موجود ہیں۔پاکستان ورکرز پارٹی کے چیئرمین بلال خان کاکڑ اور متحدہ علماءکونسل کے ملک عبدالرﺅف نے کہا کہ پاکستان وہ گلدستہ ہے جو عالم اسلام کی سربلندی کے لئے بنا۔ٹرمپ کی دھمکیوں سے لوگ پریشان ہوتے ہیں،انڈیا امریکہ میں دوستی جاری ہے۔ہمیں آسمان والے رب پر یقین رکھنا چاہئے ۔پاکستان قائم و دائم رہے گا۔ہماری فوج،ادارے مضبوط ہیں،پاکستان کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ہدیة الھادی کے مرکزی نائب صدررضیت بااللہ اور بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ نظام مصطفیٰ کے لئے تمام جماعتیں متحد ہیں۔کشمیری پاکستان کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عزیز الرحمان نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو بنایا گیا اس کے بعد نبی کریم ﷺ کے باغیوں کو پروان چڑھایا گیا۔ناموس رسالت پر امت متحد ہے اور رہے گی۔ہدیة الھادی کے نائب صدرصاحبزادہ ذوالفقار قریشی نے کہا کہ ملک میں نظام مصطفیٰ اسوقت آئے گا جب ہم قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھیں گے۔بچوں کی تعلیم عربی زبان میں ہونی چاہئے۔میٹرک تک عربی بول چال لازمی کی جائے،ہدیة الھادی خیبر پختونخواہ کے صدر سید معرفت شاہ نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے ،ہمیں انگریز کی سازشوں سے بچنا ہو گا۔نظریہ پاکستان کی حفاظت مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ اب بھی کر رہے ہیں۔ہدیة الھادی کے رہنما اسامہ خان، قاری محمد وقاص مجددی نے کہا کہ کوکھلے نعروں کا وقت نہیں،اب چہرے نہیں بلکہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ملک حاصل کیا گیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.