جامعہ کراچی؛ ہراساں کرنے والا پروفیسرتاحال ڈیوٹی پر

کراچی: جامعہ کراچی میں طالبات کو ہراساں کرنے والا لیکچرار ابھی تک تدریسی فرائض سرانجام دے رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے لیکچرار کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے جبکہ ایف آئی اے نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے طالبہ کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

طالبات کو ہراساں کرنے کے معاملے پرجامعہ کے سیکیورٹی ایڈوائزر پروفیسر زبیر احمد بھی بول پڑے۔ کہتے ہیں ’’لیکچرار کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ہم کلاس میں طالبات سے نظریں نہیں ملا پارہے۔طالبات سے شرمندگی محسوس کررہا ہوں‘‘۔

جامعہ کراچی میں دو روز قبل ایک طالبہ کی جانب سے لیکچرار پرہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔طالبہ کا کہنا تھا کہ اچھے نمبر دینے کے نام پر ایک لیکچراربلیک میل کرتے ہیں، کہتے ہیں باہر ملو، فون پر بات کرو، ملنے آؤ، تصویریں دو تو پاس ہوجاؤ گی۔ سرنے گروپ کے دیگر لڑکوں سے بات کرنے سے بھی منع کیا اور مجھ سے بات کرنے کی وجہ سے گروپ کے تمام لڑکوں کو فیل کردیا۔

جامعہ کراچی کی جانب سے ہراساں کرنے کے واقعات سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی لیکن اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہ ہونے پر گزشتہ سال ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔

بات کرنے ہوئے طلبا نے بتایا کہ وہ ماضی میں بھی نشاندہی کرتے رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی نہ اس حوالے سے اقدامات کیے گئے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.