یونیورسٹی آف گجرات، شیخ عبدالرشید کی غیرقانونی تقرری

فیصلے میرٹ پر ہونگے، جس نے غلط کام کیا اسے سزا ملے گی، کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی : وی سی ڈاکٹر شبر عتیق

لاہور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف گجرات کے ڈائریکٹر پریس میڈیا اینڈ پبلیکیشن شیخ عبدالرشید پر آئوٹ آف لاءتقرری، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی عہدوں سے متعلق کیسز میں گھیرا تنگ کردیا گیا

روزنامہ طاقت کو دستیاب تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب چودھری سرور کی جانب سے ڈائریکٹر پی ایم پی شیخ عبدالرشید کی بطور ڈائریکٹر غیر قانونی تعیناتی پر یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کیا گیا جس پر یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے معاملے کی انکوائری کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تین رکنی کمیٹی کی سربراہی وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور ڈاکٹر منصور سرور جبکہ وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا، وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال ڈاکٹر طارق بطور ممبر شامل ہیں.

غیر قانونی تقرری کے خلاف درخواست

تین رکنی کمیٹی نے تحقیقات کے بعد یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو ایک سال بعد اپنا جواب جمع کروا دیا ہے، یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے 45 دن کے اندر معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کی استدعا کی گئی تھی، دلچسپ امر یہ ہے کہ گورنر پنجاب چودھری سرور کی جانب سے اس دروان یونیورسٹی انتظامیہ کو معاملے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرکے رپورٹ بھجوانے کی تین بار یاددہانی کروائی گئی ہے، گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ لیٹرز کے مطابق پہلے یاددہانی 28مئی 2019 دوسری 24 اپریل 2020 جبکہ تیسری بار 11 جون 2020 کو کروائی گئی ہے.

ڈائریکٹر پریس میڈیا اینڈ پبلیکیشن شیخ عبدالرشید کی بطور ڈائریکٹر تعیناتی کو حاجی نعیم نامی شخص نے چیلنج کیا تھا، حاجی نعیم خود اس پوزیشن کیلئے امیدوار تھے، ڈائریکٹر پریس میڈیا اینڈ پبلیکیشن کیلئے یونیورسٹی کی جانب سے ماسٹرز ان جرنلزم فرسٹ ڈویڑن ریکوائر کیا گیا تھا جبکہ حاجی نعیم ایم فل ان ماس کمیونیکیشن اور شیخ عبدالرشید ماسٹرز ان ہسٹری کا صرف ٹرانسکپرٹ جمع کروا کے تعینات کردیئے گئے.

نوٹیفکیشن

اس حوالے سے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر شبر عتیق نے روزنامہ طاقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عبدالرشید سے متعلق تمام کیسز کی انکوائری مکمل ہوچکی ہے، دو ہفتے بعد یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں تمام امور زیر بحث آئیں گے اور میرٹ کے تحت فیصلے کئے جائیں گے، کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور نہ ہی کسی سے رعایت برتی جائے گی، جس نے غلط کیا اسے سزا ملے گی.

اضافی عہدے سے متعلق سوال کے جواب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر شبر عتیق کا کہنا تھا کہ شیخ عبدالرشید کو ڈائریکٹر اے اینڈ سی سے ہٹاکر اس شعبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور شیخ عبدالرشید کو اسٹیٹ آفیسر کا اضافی چارج دیا گیا تھا، واضح رہے کہ شیخ عبدالرشید کے خلاف اینٹی کرپشن عدالت میں یونیورسٹی کے اندر مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جبکہ شیخ عبدالرشید اور انکے ساتھی ڈپٹی پریس منیجر عرفان جاوید عبوری ضمانت پر ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.