ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف بھی میدان میں کود پڑے، کرارا جواب دیدیا

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم امریکا سے ہمیشہ مخلص رہے ہم نے امریکا سے کوئی دھوکا نہیں کیا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دھوکا کیا، ہم امریکا کو سہولیات مہیا کر رہے ہیں تو یہ سروسز ہیں اور ان کے پیسے ہیں، امریکا نے آدھے سے زیادہ پیسے سروسز مہیا کرنے پر دیے، دہشت گردی کی جنگ میں بتائے گئے ٹارگٹ ٹھیک ہیں لیکن ترجیح ہماری ہوگی، اسٹریٹجی میں ہم امریکا کے ساتھ ہیں لیکن کون سے ٹارگٹ کو کب مارنا ہے اس میں فرق ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم 100 فیصد امریکا کے ساتھ تھے اور مخلص تھے، ہمیں دہشت گردی سے لڑنا تھا میرے 5 برس کے دوران امریکا سے کوئی دھوکا نہیں ہوا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہم سے دھوکا کیا اس لیے امریکا کو یہ بتانا چاہیے کہ ہم نے کوئی دھوکا نہیں دیا۔افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے سوال پر جنرل(ر) مشرف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سال 2002ء میں جو کچھ ہوا آپ اس وقت کے ماحول میں جائیں اس وقت چین سمیت پوری دنیا امریکا کے حق میں تھی کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی کرے اس لیے میں نے 2002ء میں جو فیصلہ کیا وہ بالکل درست فیصلہ تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.