Daily Taqat

فاضل جج کانئی جیلوں کی بروقت تعمیر مکمل نہ کرنے پرہوم سیکرٹری،آئی جی جیل خانہ جات ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے جواب طلب

لاہورہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ٹھونسے گئے ہیں اورحکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔ جیلیں جرائم کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔جسٹس فرخ عرفان خان نے یہ ریمارکس نئی جیلوں کی تعمیر کے لئے ردا قاضی کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔فاضل جج نے نئی جیلوں کی بروقت تعمیر مکمل نہ کرنے پرہوم سیکرٹری،آئی جی جیل خانہ جات ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے جواب طلب کرلیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ قیدیوں کی تعداد کے تناسب سے پنجاب میں جیلوں کی تعداد پوری نہیں،اے آئی جی جیل خانہ جات ڈاکٹرقدیر احمد نے پیش ہوکرآئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ عدالتی حکم پرعمل درآمد کرتے ہوئے پنجاب میں مزید 12جیلیں کی تعمیر تقریباًمکمل ہوچکی ہیں،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نئی جیلوں کی تعمیر کا 2007ءکامنصوبہ 10سال بعد بھی مکمل نہیں ہوا، قیدیوں کے بھی قانون میں حقوق کا تعین کیاگیا ہے لیکن جیلوں میں مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ جیلوں کی تعمیر مکمل کرنے کے حوالے بروقت کام نہیں ہورہا،کچھ کہیں توپھر کہتے ہیں عدالتیں سختی کرتی ہیں۔عدالتی حکم پراے آئی جی جیل،سی این ڈبلیو سمیت دیگر افسران پیش ہوئے ، افسران نے بتایا کہ شجاع آباد،خانیوال اورسرگودھا میں زیرتعمیرجیلیں مکمل کرلی گئی ہیں ،سی اینڈ ڈبلیو افسران کا کہناتھا کہ متعلقہ رقم کی ادائیگی کے باوجود لودھراں اورمیانوالی ہائی سیکیورٹی جیل میانوالی میںفیسکو اورمیپکو بجلی اورگیس کا کنکشن نہیں دیا جارہا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تک جیلوں میں ریفارمز اورقیدیوں کی تربیت کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے،جیلیں جرائم کا گڑھ بن گئیں ،لوگ جیلوں میں بیٹھ کر جرائم کرا رہے ہیں، دین اورقرآن کے فرمودات پرعمل کرنے کی ضرورت ہے، عدالت نے زیرتعمیرجیلوں بروقت مکمل نہ کرنے پرہوم سیکرٹری ،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ،چیئرمین پی اینڈ ڈی ، آئی جیل جیل سے تحریری جواب جبکہ بجلی کنکشن فراہم نہ کرنے پرچیف ایگزیکٹو فیسکواورچیف ایگزیکٹو میپکوکو16فروری کوذاتی طورپرپیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »