زینب قتل کیس میں ملوث تین ملزمان کوحراست میں لے لیا گیا

قصور: معصوم زینب قتل کیس میں تفتیشی ٹیمیں قاتل کا سوراغ لگانے میں مصروف ہیں اور واقعے کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں تاہم تاحال قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔

ذرائع کے مطابق قصور میں زیادتی کے قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں یہ اہم انکشاف ہوا ہے کہ بچی کو قتل کرنے والا ملزم اکیلا نہیں تھا بلکہ کم از کم تین افراد ملوث ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز موصول ہو گئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ بچی کو لے جانے والے ملزم کے ساتھ اس کے ساتھی بھی موجود تھے۔

تحقیقاتی اداروں نے تین ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے تاہم بچی کو لیجانے والے مرکزی ملزم کی گرفتاری تاحال باقی ہے۔ زینب کی ڈی این اے رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ آخری ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف میڈیا بریفنگ میں عوام کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.