بھارت کو بے نقاب کرنے کیلئے 5 اگست کو ملک بھر میں پروگرام ہوں گے، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نئی اور مؤثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست کو پاکستان کے کونے کونے میں پروگرام ہوں گے اور بھارت کو بے نقاب کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب میں کشمیر کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی نے ہمارے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔

شبلی فراز شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر خاص ملکوں کی مذمت کرتی ہے اور اپنے مرضی کے ملکوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب کوئی بھی علاقہ یا مذہب ہو اس پر آواز اٹھانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اور وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں مؤثر اور مدلل طریقے سے کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا اور اپنی تقریر میں کشمیر میں بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا، اس سے بین الاقوامی میڈیا میں خبریں آنے لگیں اور مسئلہ کشمیر کی سنجیدگی کا احساس ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ہر لمحے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان پر جو ظلم وستم ہورہا ہے، جو افتاد آپڑی ہے، جس طرح عورتوں کا ریپ کیا جاتا ہے، بچوں اور جوانوں کو گولیوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ کی سہولت منقطع ہے اور خاص کر کورونا کے باعث وہاں کے اندرونی حالات تشویش ناک ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں 5 اگست کو منظم سرگرمیوں کا تفصیلی پروگرام بنایا ہے جس میں نہ صرف عالمی برادری بلکہ پاکستان کے کونے کونے میں پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مقصد پاکستان کے لیے انتہائی اہم اور سنجیدہ ہے، ہم بھارت کو بین الاقوامی سطح اور قومی سطح پر بے نقاب کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کا مقصد کشمیر سے متعلق جتنے بھی مسائل ہیں، اس پر ہماری حکومت نے واضح مؤقف لیا ہے اور اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے اورملک کے اندر اور ملک سے باہر سفارت خانوں اور میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کو سامنے لاتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے کشمیری بھائی ایک دن ان کی آزادی حقیقت بن جائے گی لیکن ہمیں نئی سوچ سے اس مسئلے کو اٹھانا ہوگا کیونکہ پہلے جو حکمت عملی تھی اس سے کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوا۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں غیرمعمولی سوچ اور طریقے سے اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا کیونکہ ہم یہی چاہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام کی یہ سختی جلد ازجلد دورہو اور کشمیری ایک مرتبہ پھر اپنی آزادی کا سانس لے سکیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کرسکیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردیئے تھے، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.