امریکی افواج کو وزیرستان اور کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا کوئی معاہدہ نہیں, دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج کو وزیرستان اور کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کرتا ہے، امریکی افواج کو وزیرستان،کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا کوئی معاہدہ نہیں، ایسی کارروائیاں پاک امریکا رابطوں پرمنفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے سے متعلق اپنے مو¿قف پر قائم ہیں، ڈرون حملے میں کرم ایجنسی میں افغان مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان اپنی حفاظت کےلئے سلامتی کی ضروریات سے غافل نہیں ہے، امریکا دہشت گردوں کے خلاف معلومات فراہم کرے، ہم خود کارروائی کریں گے۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ افغان مہاجرین کیمپس میں پاکستان مخالف نصاب پڑھانے پر تشویش ہے، مہاجرین کیمپس میں غیر جانبدارانہ نصاب پڑھایا جانا چاہیے، پاکستان نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، 16 سال تک فوجی طاقت کے استعمال سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکا، پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے پر سیاسی حل کی حمایت کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی جلد واپسی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائی جائیں۔ترجمان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزیوں کے بارے میں بتایا کہ گزشتہ سال بھارتی افواج نے سیز فائر معاہدے کی 1970 بار خلاف ورزی کی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔بھارت کے میزائل تجربے پر ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کا میزائل تجربہ جارحانہ پالیسی اور امن کے بیانات میں تضاد کا عکاس ہے، میزائل تجربے سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔
ترجمان نے اقوام متحدہ کی ٹیم کی پاکستان آمد سے متعلق کہا کہ اقوام متحدہ کی کالعدم جماعتوں وشخصیات پرپابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم اسلام آباد میں ہے، ٹیم کو کالعدم شخصیات و تنظیموں پر پابندیوں سے متعلق بریف کیا گیا۔ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کی گرفتاری کا علم نہیں تاہم معاملہ دیکھیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.