سپریم کورٹ نے عمران خان، جہانگیرترین نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس کے بعد دوسرے اہم ترین کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عمران خان اورجہانگیرترین نااہلی کیس میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات مسترد کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ نے ن لیگ کی اپیل خارج کردی۔ عمران خان نااہلی سے بچ گئے، عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ صرف وفاقی حکومت دیکھ سکتی ہے۔ جہانگیر خان ترین کو نااہل قرار دے دیا گیا۔

عمران خان اورجہانگیر ترین کیخلاف نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا۔فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس عمرعطابندیال پرمشتمل 3 رکنی بینچ نےسنایا۔ فیصلہ چیف جسٹس نے پڑھ کرسنایا۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نےاثاثےنہیں چھپائے نہ ہی بےایمانی کےمرتکب ہوئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پرغیر ملکی فنڈنگ کا الزام عائد کیا گیا چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلہ 250 صفحات پر مشتمل ہے،تمام شواہد کا جائزہ لیاگیا۔درخواست میں تحریک انصاف پرغیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایاگیا جبکہ غیرملکی فنڈنگ کافیصلہ صرف وفاقی حکومت دیکھ سکتی ہے۔ درخواست گزار حنیف عباسی متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ غیرملکی فنڈنگ کاتعین الیکشن کمیشن کرےگا۔ ۔ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی گذشتہ 5 سال تک کی غیر جانبدارانہ چھان بین کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان نیازی سروسزلمیٹڈ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹرنہیں تھے۔ بنی گالہ اراضی کی رقم عمران خان نےزائد ادا کی، بنی گالہ کی رقم جمائما نے ادا کی۔ جمائمانے4 لاکھ 17 ہزار901 پاؤنڈ فراہم کیے۔

عدالت نے حنیف عباسی کی درخواست پر جہانگیرترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قراردیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جہانگیرترین کوایماندارقرارنہیں دیا جاسکتا۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہاکہ جہانگیرترین صادق وامین نہیں رہے،آفشورکمپنیاں جہانگیرترین کی ملکیت ہیں۔ ان کے خلاف درخواست قابل سماعت ہے۔ سوال پیداہواکیااعتراف جرم پرتحقیقات ہوسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جہانگیرترین کیخلاف فوجداری کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ جہانگیرترین کیخلاف زرعی ٹیکس پرکارروائی نہیں ہوسکتی۔

فیصلہ سنانے میں تاخیرپرچیف جسٹس نے کہا کہ آنے میں دیر ہوئی جس پر معذرت چاہتا ہوں۔ ایک صفحے پر غلطی تھی اس لیے دوبارہ 250 صفحے پڑھنے پڑے۔

تحریک انصاف کے قائدین عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے دو نومبر دو ہزارسولہ کو رجوع کیا۔ حنیف عباسی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے آف شور کمپنی چھپائی ۔ حنیف عباسی کی جانب سے جائیداد کی شفاف منی ٹریل نہ ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کونااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائرکی گئیں۔

سات نومبرکوسابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے درخواستیں پاناما کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں سے جواب طلب کر لیا ۔

ابھی صرف چار سماعتیں ہی ہوئیں تھیں کہ تیس دسمبر 2016 کو جسٹس جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بنچ ٹوٹ گیا۔ کم وبیش ساڑھے پانچ ماہ بعد تین مئی 2017 کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازسرنو سماعت شروع کی۔

عمران خان کے کیس میں 405 روز کے دوران 45 جبکہ جہانگیر ترین کیخلاف درخواست پر 42 طویل سماعتیں ہوئیں جس کے بعد 14 نومبر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 7 ہزار دستاویزات کا جائزہ لیکر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مقدمات میں اہم موڑ اس وقت آئے جب عمران خان نے موقف میں تبدیلی کی استدعا کی اور جہانگیر ترین نے لیز پر لی گئی اراضی کا سرکاری ریکارڈ نہ ہونے کے ساتھ ٹرسٹ کے تاحیات بینیفشری ہونے کا اعتراف کیا۔ سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران عمران خان کی آمدن، رقوم کی منتقلی، لندن فلیٹ کی خریداری پرکی جانے والی بحث نمایاں رہی جبکہ جہانگیر ترین کی زرعی آمدن، آف شور کمپنی، برطانیہ میں جائیداد اور اِن سائڈ ٹریڈنگ پر بھی خوب بحث ہوئی۔

کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری اور جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند تھے جبکہ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ تھے۔

عمران خان کا موقف رہا کہ لندن فلیٹ بیچ کر پیسہ قانونی طور پر ملک میں لایا جس سے متعلق 60 صفحات کی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ایک موقع پر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک بھی دستاویز غلط ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑدوں گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.