آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ۔ پولیس اب تک سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو ڈونڈنے میں ناکام

قبائلی نوجوان نقیب اللہ کے قتل کیس میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس نے اسلام آباد اور خیبر پختونخوا پولیس سے مدد طلب کرلی ہے، نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ آفتاب پٹھان کے سپرد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس نے راؤ انوار احمد کی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں موجود گی کی اطلاعات پر اسلام آباد اور خیبر پختونخوا پولیس سے مدد طلب کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور خیبر پختونخوا کے آئی جی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کیس کی تحقیقات ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ آفتاب پٹھان کے سپرد کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات میں ایس ایس پی رینک کے تین افسران کو شامل کیا جائے گا اور مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کی ایک ٹیم آئندہ

24 گھنٹوں میں اسلام آباد بھی روانہ کی جا سکتی ہے۔ نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ملیر عدیل چانڈیو، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذوالفقار مہر اور عابد قائم خانی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقات میں گرفتاریوں کے لیے نہ صرف تکنیکی بنیادوں پر کوششیں جاری ہیں بلکہ راؤ انوار کے قریب سمجھے جانے والے بعض افراد اور اہلکاروں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب راؤ انوار اور ان کی پولیس پارٹی کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس کی ٹیمیں ہوٹلوں پر کام کرنے والے راؤ انوار کے مخبروں، گرفتاری دینے والے چوکی انچارج اور پولیس اہلکاروں کے بیانات کی روشنی میں کام کر رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ان چھاپوں کے دوران پولیس نے 7 مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے، جن سے ضلع ملیر میں راؤ انوار کے چلنے والے غیر قانونی کاموں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، جب کہ سابق ایس ایچ او سہراب گوٹھ شعیب المعروف شوٹر کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔ شعیب ماضی میں ماورائے عدالت قتل میں ملوث پائے جانے پر عدالتی حکم پر معطل ہو چکا تھا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معطلی کے بعد بھی وہ تھانے میں ایس ایچ او کی حیثیت سے ہی تمام امور انجام دیتا رہا ہے۔ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ راؤ انوار اور ان کی پولیس پارٹی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے، اس سے انہیں فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راؤ انوار کے دور میں ریتی بجری، پیٹرول پمپس کے لیے زمینوں پر قبضے، سبزی اور پھلوں کی کاشت کے لیے بھی زمینوں پر قبضے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں پولیس کے افسران کاشت کاری کر رہے ہیں، ایسے تمام پولیس افسران کی بھی فہرستیں تیار کر کے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راؤ انوار میڈیا کے مخصوص حصوں پر اپنے بیانات دے رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ سامنے آئیں اور اپنا جو بیان دینا ہے تحقیقات کرنے والی پولیس کو بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ راؤانوار کی ٹیم جن لوگوں کو اٹھاتی تھی اُن کی مخبریاں کون کرتا تھا، اُن لوگوں کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.