”خیبرپختونخواہ حکومت نے تو اب تک۔۔۔“ مشعال خان کے والد بھی میدان میں آ گئے

پشاور: خیبرپختونخواہ حکومت مشعال خان کے اہل خانہ کی داد رسی کرنے میں ناکام ہو گئی جو ناصرف مقدمے کے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں بلکہ اپنی حفاظت پر مامور خیبرپختونخواہ پولیس کے 8 اہلکاروں کے کھانے پینے کے اخراجات بھی خود برداشت کر رہے ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں مشعال خان کے والد اقبال خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت کی مثال تو ماں، باپ جیسی ہوتی ہے، ہم لوگ کسی سے کرسی اور پیسے تو نہیں مانگتے، ابھی تک جو ہمارا مقدمہ چل رہا ہے وہ آخری مراحل میں ہے اور جو میرے ساتھ وکلاءجاتے ہیں وہ میرے ذاتی دوست ہیں جو اپنی گاڑی بھی استعمال کرتے ہیں اور اپنی روٹی بھی کھاتے ہیں، دوسری عدالتوں اور ہائیکورٹ وغیرہ میں اپنا کیس بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
حکومت نے وعدے تو کئے تھے جبکہ ہوم سیکرٹری نے بھی وعدہ کیا تھا کہ آپ کے وکیلوں کو کچھ دے دیں گے لیکن ابھی تک انہیں کچھ نہیں دیا گیا کیونکہ وہ وکلاءبھی امیر تو نہیں بلکہ غریب لوگ ہیں جو اپنے مقدمات بھی چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ڈٹ کر میرا ساتھ جاتے ہیں اور مشعال خان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ “
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ”آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ کے خاندان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کا خرچ بھی آپ پر ہے، اور خیبرپختونخواہ حکومت کا کہنا ہے کیونکہ وہ ایک روایت ہے اور وہاں پر کوئی انتظام نہیں، کوئی ہوٹل نہیں ہے، لہٰذا آپ خود ہی ان کے کھانے کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ “

اس پر انہوں نے کہا کہ” مجھ سے پولیس اہلکاروں کی سیکیورٹی دینے کا سوال پوچھا گیا تو میں نے جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ میں خیبرپختونخواہ کی پولیس کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے ساتھ تعاون کیا لیکن میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا کہ وہ مجھے پولیس کا خرچ بھی دے رہے ہی، میرے پاس جو 8 پولیس والے گھر ہوتے ہیں، 4 چلے جاتے ہیں اور 4 آ جاتے ہیں، ان کا خرچ مشعال خان کے 13 اپریل کے قتل کے بعد میں نے ادا کیا ہے۔“


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.