زینب قتل کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

لاہور: زینب قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے تاہم سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس کی تفتیش پر اظہار عدم اطمینان کیا ہے۔
زینب قتل کیس کی سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ آر پی او ملتان محمدادریس نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ جے آئی ٹی کی جانب سے عدالت کو زینب قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ملٹی میڈیا پر بریفنگ دی گئی۔ سربراہ جے آئی ٹی محمد ادریس نے عدالت کو بتایا کہ زینب اپنی خالہ کے گھر پڑھنے جاتی تھی جو کہ 300 میٹر کی دوری پر ہے،اس کا بھائی عثمان اس کے ساتھ جاتا تھا لیکن جس دن واقعہ پیش آیا زینب کا بھائی ساتھ نہیں تھا۔4 جنوری کو واقعہ پیش آیا زینب شام 7 بجے گھر سے پڑھنے کےلئے نکلی ساڑھے 9 بجے 15 کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی گئی۔
جے آئی ٹی نے مزید بتایا کہ جون 2015 سے اب تک 8 واقعات پیش آئے جن میں ایک ہی شخص ملوث ہے جس کا ڈی این اے ملا ہے، یہ تمام واقعات 3 تھانوں کی حدود میں پیش آئے جبکہ پہلے 2 واقعات تھانہ صدر ڈویژن کی حدودمیں ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا وہ کون سا ایس ایچ اوہے جو 3 سال سے تعینات ہے، سناہے شکایات کے باوجود ایس ایچ او کو ہٹایا نہیں گیا، اتنے واقعات ہو گئے پولیس کیاکررہی تھی؟ 2 تھانوں کی حدود میں مسلسل واقعات ہوئے لیکن کسی نے انکوائری نہیں کی۔سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس کی تفتیش پر اظہار عدم اطمینان کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.