Daily Taqat

جو ڈاکٹرز سیاست میں ہیں انہیں فارغ کر دیں، بدمعاشی نہیں چلے گی، چیف جسٹس

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ہڑتالوں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کو حکم دیا ہے کہ جو ڈاکٹرز سیاست میں ہیں انہیں فارغ کر دیں۔ بدمعاشی نہیں چلے گی۔ ینگ ڈاکٹرز کے وظیفے بند کردیے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ ہسپتالوں میں بہتری لانے کے لئے کام کررہے ہیں۔ حکومت نے ہسپتالوں کی بہتری کیلئے ایک ارب روپے جاری کیے۔ 571 ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے آرڈرز ہوچکے ہیں۔

اورنگزیب حق کا عدالت میں مزید کہنا تھاکہ ینگ ڈاکٹرز سیاست میں ملوث ہیں۔ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بدمعاشی نہیں چلے گی، ینگ ڈاکٹرز کے وظیفے بند کردیے جائیں۔ جو ڈاکٹرز سیاست میں ہیں انہیں فارغ کردیں۔ صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر یاسر بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے۔ ہمیں وظیفے کی مد میں 24 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ دوسرے صوبوں میں 60 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں عدالت نے اپنے ریماکس میں کہا کہ آپ کو صوبہ کے حالات کے مطابق وظیفہ دیا جاتاہے۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا آپ ینگ ڈاکٹرز کو وظیفہ دے رہے ہیں؟ اورنگزیب حق نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کے وظیفہ میں 4 ہزار روپے اضافہ کیا جارہا ہے۔ اور اب وظیفہ 30 ہزار ہوجائے گا۔ اس موقع پر پیرامیڈیکس اسٹاف کے نمائندہ نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ پیرامیڈیکس اسٹا ف کا سروس اسٹرکچر نہیں ہے اور کوئی الاونس بھی نہیں دیا جا رہے۔ اس پر عدالت نے اپنے ریماکس میں کہا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی مثال دنیا میں صرف پاکستان میں ملتی ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری صحت کو ینگ ڈاکٹرز کے مسائل حل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »