Daily Taqat

مشعال قتل کیس میں عدالت نے فیصلہ سنا دیا

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 ، 25 سال قید، 25 ملزموں کو 4، 4 سال قید جبکہ 26 ملزموں کو بری کر دیا گیا۔

ہری پور سمیت دیگر علاقوں میں سکیورٹی سخت رہی۔ میڈٰیا کو جیل میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب خیبرپختونخواہ حکومت نے بری ملزمان کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔بھائی ایمل خان کی میڈیا سے گفتگومشال خان کے بھائی ایمل خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بھائی کی کمی پوری نہیں کر سکتا، انصاف کے لئے پر امپید ہوں۔ انہوں نے کہا مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کر کے سزا دی جائے، ہمارے وکلاء فیصلے پر مشاورت کریں گے۔خیال رہے 13 اپریل 2017 کو عبد الولی خان یونی ورسٹی مردان میں 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر جان سے مار دیا تھا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر تشدد کی متعدد ویڈیوز جاری ہوئیں۔ پولیس اور حکومت سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو کلپس کے بعد حرکت میں آئی تھی۔ مشال خان قتل کیس کا مقدمہ پہلے پشاور ہائی کورٹ میں چلا تا ہم مشال کے والد محمد اقبال کی درخواست پر مقدمہ پشاور ہائی کورٹ سے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آباد منتقل کیا گیا۔ اس کیس میں ستمبر 2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں، جن میں 68 گواہ پیش ہوئے۔ عدالت نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد 30 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »