جامعہ کراچی میں ہراساں کرنے کا معاملہ؛ایف آئی اے حکام نےمتاثرہ طالبہ کوبلالیا

کراچی: ایف آئی اے نے جنسی ہراسانی سے متعلق طلبا کی شکایات کے اندراج کے لیے فارم تیار کرلیا۔

ایف آئی اے کی جانب سے طلبا سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے موبائل میں سے ایسے نامناسب پیغامات کو ضائع نہ کریں جو کسی بھی طرح سے ان کی شکایت سے متعلق بطور ثبوت استعمال ہو سکتے ہوں۔

ایف آئی نے لیکچرار کی جانب سے ہراساں کرنے کےا معاملہ اٹھانے والی طالبہ کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کیلئے اپنے دفتربلالیا ہے۔

جامعہ کراچی میں دو روز قبل ایک طالبہ کی جانب سے لیکچرار پرہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔طالبہ کا کہنا تھا کہ اچھے نمبر دینے کے نام پر ایک لیکچراربلیک میل کرتے ہیں، کہتے ہیں باہر ملو، فون پ بات کرو، ملنے آؤ، تصویریں دو تو پاس ہوجاؤ گی۔ سرنے گروپ کے دیگر لڑکوں سے بات کرنے سے بھی منع کیا اور مجھ سے بات کرنے کی وجہ سے گروپ کے تمام لڑکوں کو فیل کردیا

طالبہ کی شکایت پرانچارج ہراسمنٹ کمیٹی جامعہ کراچی نسرین اسلم کا کہنا تھا کہ طالبات نمبرز کے لئے تعلقات بڑھاتی ہیں۔ نسیم اسلم نے طالبات کی شکایت پرانہی کو شٹ اپ کال دیتے ہوئے کہا کہ آپ ٹیچرزکوالزامات کیوں دیتےہیں؟مجھےبھی پتہ ہےکیا ہوتا ہے کیا نہیں۔

دوسری جانب لیکچرارنے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیل ہونے والے طالبعلموں نے بدلہ لینے کیلئے میرے خلاف سازش کی ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.